***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > نماز کا بیان > نماز کی سنتیں اور مستحبات

Share |
سرخی : f 1197    تکبیر تحریمہ سے جماعت میں شامل ہونے کی فضیلت
مقام : گولگنڈہ . انڈیا,
نام : شیخ جاوید
سوال:    

میں نے سنا کہ باجماعت نماز پڑھتے وقت پہلی تکبیر میں امام صاحب کے ساتھ رہنے کی بڑی فضیلت ہے ۔ براہ کرم اس کی کیا فضیلت ہے ۔بیان فرمائیں اور بتلائیں کہ اس کے لئے تکبیر تحریمہ امام صاحب کے ساتھ کہناچاہئے یا امام صاحب کہنے کے بعد کہنا چاہئے ؟


............................................................................
جواب:    

احادیث مبارکہ میں تکبیر اولیٰ سے امام صاحب کے ساتھ رہنے کی فضیلت وارد ہے ۔ جامع ترمذی شریف ج 1ص 56میں حدیث پاک ہے ۔ عن انس بن مالک قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من صلی للہ اربعین یوما فی جماعۃ یدرک التکبیرۃ الاولی کتب لہ براء تان برأۃ من النار و برأۃ من النفاق ۔ ترجمہ : سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس نے اللہ تعالی کے لئے چالیس دن باجماعت پہلی تکبیر کے ساتھ نماز اداکی اس کے لئے دوبراء تیں لکھ دی گئیں (1) دوزخ سے خلاصی (2) نفاق سے نجات۔ تکبیر تحریمہ امام صاحب کے ساتھ کہنا افضل ہے ۔ امام صاحب تکبیر کہنے کے بعد رکوع مکمل کرنے سے پہلے جماعت میں شامل ہونے سے بھی تکبیر تحریمہ پانے کی فضیلت حاصل ہوجاتی ہے ۔ اس سلسلہ میں فقہاء کرام نے صراحت کی کہ جس نے پہلی رکعت پائی اس کو تکبیر اولیٰ کی فضیلت حاصل ہوجائے گی ۔ فتاوی عالمگیری ج 1 ص 69 میں ہے اما فضیلۃ تکبیرۃ الافتتاح تکلموا فی وقت ادراکھا والصحیح ان من ادرک الرکعۃ الاولیٰ فقد ادرک فضیلۃ تکبیرۃ الافتتاح ۔ ترجمہ : تکبیر تحریمہ کی فضیلت کے حصول سے متعلق صحیح یہ ہیکہ جس شخص نے پہلی رکعت پالی اس نے تکبیرتحریمہ کی فضیلت حاصل کرلی۔ واللہ اعلم بالصواب سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com