***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > نماز کا بیان > اذان کے مسائل

Share |
سرخی : f 1202    اذان کے وقت سلام کا جواب
مقام : کولکتہ,
نام : عبداللہ قادری
سوال:    

میرا سوال یہ ہے کہ میں مسجد میں بیٹھا ہوا تھا ‘ اور اذان ہورہی تھی ،ایک صاحب مسجد میں داخل ہوئے اور سلام کیا ، تو کیا اذان کے وقت کئے گئے سلام کا جواب دینا واجب ہے؟ جواب ضرور دیں!شکریہ


............................................................................
جواب:    

اذان ، ذکر ہے اور ذکر ودعاء ،تسبیح وتحمید وغیرہ کے موقع پر کوئی شخص سلام کرے تو اُس کا جواب دینا واجب نہیں، البتہ جب اذان کا جواب دینے سے فارغ ہوجائے تو مناسب ہے کہ سلام کا جواب دے ۔ راد المحتار میں ہے: صرح الفقہاء بعدم وجوب الرد فی بعض المواضع ۔ ۔ ۔ وسلام السائل ، والمشتغل بقراء ۃ القرآن ، والدعاء حال شغلہ ، والجالسین فی المسجد لتسبیح أو قراء ۃ أو ذکر حال التذکیر .(ردالمحتار،کتاب الصلوٰۃ،باب مایفسدالصلوٰۃ ومایکرہ فیھا) واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com