***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاملات > حلال و حرام کا بیان

Share |
سرخی : f 1203    ماڈرن طرزکے بال رکھناکیساہے ؟
مقام : عادل آباد۔انڈیا,
نام : عالیہ بانو
سوال:    

ماڈرن تہذیب کی دلدادہ بعض خواتین آج کل مردوں کی طرح بال کترواتی ہیں ‘کیا اسلام میں اس کی کچھ گنجائش ہے ؟ شرعی حکم بیان فرمائیں ؟


............................................................................
جواب:    

عورتوں کے لئے شرعی حدود میں رہتے ہوئے زیب وزینت اختیار کرنا جائز ہے لیکن مردحضرات سے مشابہت اختیار کرنے کی عورتوں کو سخت ممانعت کی گئی ہے چنانچہ بخاری شریف ج2کتا ب اللباس ص 478میں حدیث پاک ہے ’’عن ابن عباس رضی اللہ عنہ قال لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم المتشبھین من الرجال بالنساء والمتشبھات من النساء بالرجال ‘‘ ترجمہ :سید نا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہے انہوں نے فرمایا :اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے مشابہت اختیار کرنے والے مردوں پر لعنت فرمائی اور مردوں سے مشابہت اختیار کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے۔ لہذاعورتوں کا اپنے سر کے بال اس طرح کاٹنا یا ترشوانا جس کی وجہ مردوں سے مشابہت ہو شرعا مکروہ اور سخت ناپسندیدہ ہے او راس طرح کا عمل کرنے والی عوتیں قابل لعنت اور گنہگار ہیں ۔جیسا کہ ردالمحتار ج5 ص 261 میں ہے ’’ قطعت شعر رأ سھا اثمت ولعنت‘‘۔ واللہ اعلم بالصواب سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com