***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > نماز کا بیان

Share |
سرخی : f 1207    نمازی کے سامنے سے گزرنے پروعید
مقام : بیجاپور,
نام : محمد ابوبکر
سوال:    

میںنے نمازی کے سامنے سے گزرنے والے کے بارے میں ایک حدیث شریف سنی کہ جوآدمی نمازی کے سامنے سے گزرتاہے اس کیلئے چالیس دن یا چالیس مہینے یا چالیس سال ٹھہرنا اچھاہے اس کے مقابل کہ وہ نماز ی کے سامنے سے گزرجائے۔مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ سامنے سے نہ گزرنا چالیس دن سے بہترہے یا چالیس مہینے سے یا چالیس سال سے ؟ برائے مہربانی جواب عنایت فرمائیں ۔


............................................................................
جواب:    

یہ حدیث پاک صحیح بخاری شریف ،صحیح مسلم شریف اور احادیث شریفہ کی دیگر کتابوں میں موجود ہے ، صحیح بخاری شریف میں ہے عن بسر بن سعید أن زید بن خالد أرسلہ إلی أبی جہیم یسألہ ماذا سمع من رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی المار بین یدی المصلی فقال أبو جہیم قال رسول اللہ - صلی اللہ علیہ وسلم - لو یعلم المار بین یدی المصلی ماذا علیہ لکان أن یقف أربعین خیرا لہ من أن یمر بین یدیہ . قال أبو النضر لا أدری أقال أربعین یوما أو شہرا أو سنۃ . ترجمہ :حضرت بسربن سعید سے روایت ہے کہ حضرت زیدبن خالد رضی اللہ عنہ نے انہیں حضرت ابوجہیم رضی اللہ عنہ کے پاس یہ دریافت کرنے کیلئے بھیجا کہ انہوں نے نمازی کے سامنے سے گزرنے والے کے بارے میں حضرت رسول اللہ صلی ا للہ علیہ وسلم سے کیا سناہے؟ حضرت ابوجہیم رضی اللہ عنہ نے فرمایا، حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر نمازی کے سامنے سے گزرنے والاجانتا کہ اس کا کیا گناہ ہے توضرور چالیس تک ٹھہرنا اس کے نزدیک بہتر ہوتا کہ وہ نمازی کے سامنے سے گزر ے ،راوی حدیث ابوالنضر کہتے ہیں میں نہیں جانتا انہوں نے چالیس دن فرمایا یاچالیس مہینے یاچالیس سال۔(صحیح بخاری ، کتاب الصلوٰۃ،باب اثم المار بین یدی المصلی، حدیث نمبر:510،صحیح مسلم ،کتاب الصلوٰۃ، باب منع المار بین یدی المصلی، حدیث نمبر:1160،سنن النسائی ،حدیث نمبر:755،مسند امام احمد،حدیث ابی جھیم بن الحارث،حدیث نمبر:18003) اس روایت میں متعین طورپر یہ مذکورنہیں ہیکہ چالیس سے کیا مراد ہے۔ البتہ علامہ علی بن ابوبکر ہیثمی(متوفی807ھ؁)کی مجمع الزوائدج2ص 61کی روایت میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے متعین طورپر چالیس سال کے الفاظ منقول ہیں ۔ ۔ ۔ لان یقوم اربعین خریفا خیرلہ من ان یمربین یدیہ۔ ترجمہ: نمازی کے سامنے سے گزرنا اس کیلئے اس سے بہتر ہے کہ وہ چالیس سال ٹھہرا رہے ۔(مجمع الزوائدج2ص 61باب فی الاعداد من الزمان التی لووقفہا من مربین یدی المصلی) امام ابوجعفر طحاوی رحمۃ اللہ علیہ نے مشکل الآثار میں اسی معنی کو بیان کیا ہے فدل ذلک ان تلک الاربعین من الاعوام لامماسواہا من الشہورومن الایام۔ نمازی کے سامنے سے گزرناسخت ترین گناہ ہے،اس ارشاد مبارک سے مقصود یہ ہے کہ آدمی اس قبیح گناہ کاارتکاب نہ کرے اس لئے شدت وتاکید کیساتھ اس سے منع کیا گیاہے، ایک اور روایت میں سوسال کا ذکر بھی آیا ہے جیسا کہ مسند امام احمد،( مسند ابوہریرہ رضی اللہ عنہ )میں حدیث پاک ہے عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ عن رسول اللہ صلی علیہ وسلم قال لویعلم احدکم مالہ فی ان یمشی بین یدی اخیہ معترضاوہویناجی ربہ کان ان یقف فی ذلک المکان مائۃ عام احب الیہ من ان یخطو۔ ترجمہ: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے ارشاد فرمایا : اگر تم میں سے کوئی جانتا کہ اپنے (پڑھنے والے )بھائی کے سامنے سے چلنے پر کس قدر بڑا گناہ ہے جبکہ وہ اپنے رب سے مناجات کررہا ہوتوسوسال اسی مقام پرٹھہرے رہنا اس کے پاس نمازی کے آگے گزرنے سے بہتر ہوتا۔ عمدۃ القاری ج 3 ص 595میں ہے : بان ہذہ الروایۃ تشعربان اطلاق الاربعین للمبالغۃ فی تعظیم الامرلالخصوص عدد معین ۔ ۔ ۔ انہ قید بالمائۃ بعد التقےید بالاربعین للزیادۃ فی تعظیم الامرعلی المارلان المقام مقام زجر وتخویف وتشدید۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com