***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > نماز کا بیان > نماز تراویح کے مسائل

Share |
سرخی : f 1216    نماز تراویح میں قرآن شریف تلاوت کا طریقہ
مقام : دبیر پورہ,
نام : محمد اخلاق حسین
سوال:    

رمضان شریف میں شبینہ ‘ دہا اور نماز تہجد میں کئی حفاظ کرام سے قرآن شریف سننے کا موقع رہتا ہے لیکن بعض جگہ حفاظ کرام اتنی تیزی سے قرآن شریف تلاوت کرتے ہیں کہ بعض الفاظ ظاہر ہی نہیں ہوتے اور بعض حروف کی ادائیگی اس طرح ہوتی ہے کہ حروف کے درمیان امتیاز باقی نہیں رہتا ۔ قرآن شریف کس انداز سے پڑھنا چاہئے اور کتنا تیز پڑھنے کی گنجائش ہے اور کس طرح پڑھنے سے نماز میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے؟ جواب مرحمت فرمائیں۔


............................................................................
جواب:    

قرآن مجید کو اس کے جملہ حقوق و آداب کا لحاظ رکھتے ہوئے حروف کے مخارج کی وضاحت کی مکمل رعایت کے ساتھ تلاوت کرنا چاہئے ۔ قرآن شریف کی تلاوت اتنی سرعت سے نہ کی جائے کہ جس سے حروف صحیح طور پر ادا نہ ہوں ۔ قرآن کریم کی تلاوت سے متعلق صحیح بخاری شریف ج 1ص 107 میں حدیث مبارک ہے ۔ سمعت ابا وائل قال جاء رجل الی ابن مسعود فقال قرأت المفصل اللیلۃ فی رکعۃ فقال ھذا کھذا الشعر ۔ حضرت ابو وائل کہتے ہیں ۔ ایک شخص حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا ۔ میں نے آج رات ایک رکعت میں مفصل کی تمام سورتوں کی تلاوت کی ہے ۔یہ سن کر حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ نے (ڈانٹتے ہوئے ) فرمایا اتنی جلدی پڑھے ہو جیسے شعر پڑھا جاتا ہے ۔ عرب کی عادت تھی کہ وہ اشعار بہت تیز پڑھتے تھے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تلاوت اتنی تیزی سے بھی نہ ہو کہ حروف مشتبہ ہوجائیں بلکہ ہر حرف کی رعایت کے ساتھ قرآن کریم کی تلاوت کرنی چاہئے ۔ تلاوت اگر اس انداز سے ہو کہ بعض حروف ادا نہ ہوں اور اس کی وجہ سے معنی میں تبدیلی واقع ہوتی ہے تو اس سے نماز فاسد ہوجائے گی ۔ اگر معنی میں تبدیلی واقع نہیں ہوتی ہے تو نماز فاسد نہیں ہوگی ۔ تاہم ایسا عمل مکروہ ہے ۔ نہایت تیزی کے ساتھ تلاوت کرنے سے احتراز کرنا چاہئے ۔ تلاوت اس طرح ہو کہ حروف مکمل طور پر ادا ہوں ۔ تلاوت اگر اس انداز سے ہو کہ قریب المخارج حروف کے درمیان فرق نہیں ہوتا اور وہ حروف ایسے ہوں جن کے مخارج اور ادائی میں دشواری سے تمیز ہوتی ہو جیسے ظاء اور ضاد ۔ سین اور صاد تو ایسی صورت میں نماز فاسد نہیں ہوگی ۔ درمختار ج 1ص 531 میں ہے۔ ویجتنب المنکرات وھذرمۃ القرأۃ ۔ عالمگیری ج 1ص 79میں ہے۔ و منھا حذف حرف ۔ ۔ ۔ خان کان لایغیر المعنی لاتفسدصلاتہ و ان غیرالمعنی تفسد صلاتہ عندعامۃ المشائخ ۔ عالمگیری ج 1ص 79میں ہے۔ ومنھا ذکر حرف مکان حرف ۔ ۔ ۔ ان کان لایمکن الفصل بین الحرفین الابمشقۃ کا الظاء مع الضاد والصاد مع السین ۔ ۔ ۔ لاتفسد صلاتہ۔ تلاوت کرتے وقت حفاظ کرام تلاوت کے جملہ حقوق و آداب کو ملحوظ رکھتے ہوئے تلاوت کریں کیوں کہ امام تمام مصلیوں کی نماز کا ذمہ دار اور ضامن ہوتا ہے۔ سنن ابوداؤد شریف میں حدیث مبارک ہے۔ عن ابی ھریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الامام ضامن والموذن مؤتمن ۔ ترجمہ : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ۔ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :امام ذمہ دار ہے اور موذن امانت دار ہے ۔(سنن ابوداؤد شریف باب ماجاء فی ان للامام ضامن والموذن مؤتمن حدیث نمبر 2071) واللہ اعلم بالصواب سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com