***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > نماز کا بیان > امامت کے مسائل

Share |
سرخی : f 1219    تراویح میں خواتین کی امامت
مقام : محبوب نگر,
نام : حمیراء فاطمہ
سوال:    

کچھ عرصہ سے شہر میں خواتین کیلئے علحدہ مقام پر نماز تراویح کا انتظام کیا جارہا ہے ۔ بعض مقامات پر مرد حفاظ قرآن کریم سناتے ہیں لیکن بعض جگہ حافظہ خواتین امامت کے فرائض انجام دینے لگی ہیں اورقرآن شریف سنا رہی ہیں ، کیا شرعاً عورتوں کی امامت درست ہے؟


............................................................................
جواب:    

اہل سنت و جماعت کے پاس عورت کی امامت درست نہیں‘ شریعت کا یہ حکم عورت کے حاجات و ضروریات کی مناسبت سے دیا گیا ہے (اس میں عورت کی تنقیص کا کوئی پہلو نہیں) عورت کے لئے پنجگانہ فرض نمازیں گھر میں پڑھنے کی تاکید کی گئی ہے، جب فرض نماز کے لئے ان کی جماعت نہیں رکھی گئی تو سنت و نفل کے لئے ان کی جماعت کیسے درست ہوگی؟۔ عورتوں کے لئے جماعت کا مقرر نہ کیاجانا ان کے لئے اللہ کی ایک رحمت ہے اور اس میں بے شمار فوائد و مصالح ہیں۔ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے ،اس نے معاشرے کے ہر فرد کیلئے حدود اور علحدہ دائرہ کار متعین کردیا ہے، خواتین کیلئے تدبیر منزل، امور خانہ داری اور تربیت اولاد کی ذمہ داری سونپی گئی ہے اور مرد کو من جملہ اسکی ذمہ داریوں کے ایک منصب امامت بھی دیا گیا ہے۔ جہاں تک خواتین کی امامت کا مسئلہ ہے توچونکہ عورتوں کیلئے امامت اصلاً نہیں ہے اسی لئے خواتین کی امامت مرد حضرات کیلئے درست نہیں اور خواتین کیلئے کسی خاتون کی امامت خواہ فرائض میں ہو یا نوافل میں مکروہ تحریمی ہے۔ فتاوی عالمگیری ج1ص 75میں ہے :ویکرہ امامۃ المراء ۃ للنساء فی الصلوۃ کلھامن الفرائض والنوافل اورفتاوی عالمگیری ج 1ص 75میں ہے :وصلو تھن فرادی افضل ترجمہ :عورتوں کیلئے نماز باجماعت ادا کرنے سے بہتر و افضل ہے کہ وہ تنہا بغیر جماعت ادا کریں ۔ واللہ اعلم بالصواب سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com