***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > نماز کا بیان > امامت کے مسائل

Share |
سرخی : f 1221    مقتدی کی طہارت کانقص امام پرقرآن کریم کومشتبہ کرتاہے
مقام : ورنگل ، انڈیا,
نام : جمیل شیخ
سوال:    

میرے ایک بھائی حافظ قرآن ہیں،بہت سالوں کے بعد وہ انڈیا آئے ہیں، ایک مرتبہ دوران گفتگو انہوں نے مجھ سے کہا کہ اگر مصلی صحیح طریقہ سے طہارت نہ لے تو اس کا اثر امام پر پڑتا ہے،یہ بات کہاں تک درست ہے،میں یہ جاننا چاہتاہوں کہ کیا واقعی مقتدی کی طہارت میں عدم توجہ کی وجہ سے امام کوسہوہوتاہے؟


............................................................................
جواب:    

دین اسلام ایک پاکیزہ مذہب ہے ،جس میں طہارت وستھرائی سے متعلق تاکیدی احکام وارد ہیں اورطہارت کا مکمل اہتمام کرنے والوں کے لئے بشارت ہے: واللہ یحب المطہرین۔ ترجمہ:اوراللہ تعالی اچھی طرح پاکی حاصل کرنے والوں کوپسندفرماتاہے۔ (سورۃ التوبہ108) طہارت میں بے احتیاطی اورعدم کمال کی وجہ سے اس کے اثرات صرف مقتدی پرہی نہیں بلکہ امام پربھی ہوتے ہیں جیساکہ سنن نسائی شریف میں ہے،حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:مابال اقوام یصلون معنا لایحسنون الطہورفانمایلبس علیناالقرآن اولئک۔ ترجمہ: لوگوں کوکیا ہوگیا ہے؟ہمارے ساتھ نمازپڑھتے ہیں اورکامل طہارت کا اہتمام نہیں کرتے ،انہی کی وجہ سے ائمہ پرقرآن مشتبہ ہوجاتاہے۔ (سنن نسائی ،کتاب الافتتاح ،باب القراء ۃ فی الصبح بالروم ،حدیث نمبر938) نیزکنزالعمال شریف میں حدیث پاک ہے :اذا صلیتم خلف ائمتکم فاحسنوا طہورکم فانمایرتج علی القاری قرائتہ بسوء طہرالمصلی خلفہ۔ ترجمہ :جب تم اپنے اماموں کے پیچھے نمازپڑھنا چاہوتوکامل طہارت کا اہتمام کرو!کیونکہ مصلی کے طہارت میں عدم اہتمام کی وجہ سے امام پراس کی قراء ت مشتبہ ہوجاتی ہے ۔(کنزالعمال ،کتاب الطہارۃ ،الباب الاول ،الفصل الثانی ،آداب متفرقۃ ،حدیث نمبر26236) لہذاامام ومقتدی ہردوکی ذمہ داری ہے کہ پوری توجہ کے ساتھ طہارت وپاکیزگی کا اہتمام کریں ،حاجت بشری کے وقت ،استنجاء کے وقت اوروضوء وغسل کے وقت آداب کا مکمل لحاظ رکھیں۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com