***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > روزہ کا بیان > وہ صورتیں جن میں روزہ نہی

Share |
سرخی : f 1225    روزہ کی حالت میں بلڈ ٹسٹ کروانا
مقام : انڈیا,
نام : محمد حبیب علی
سوال:    

احقر کی پیرانہ سالی کی وجہ سے عموماً طبعیت ناساز رہتی ہے ایسی حالت میں جو روزے چھوٹ جائیں ان کا کیا حکم ہے؟و نیز روزہ کی حالت میں بلڈ ٹسٹ کروایا جاسکتا ہے یا نہیں؟


............................................................................
جواب:    

شریعت اسلامیہ میں انسانوں کیلئے مقرر کردہ عبادات ومعاملات میں اسکے حالات کے لحاظ سے سہولتیں بھی رکھی گئی ہیں اور کسی پر اسکی وسعت و طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ۔ ترجمہ: اللہ تعالیٰ کسی نفس پر ذمہ داری نہیں ڈالتا مگر اسکی وسعت کے مطابق۔(البقرہ: 286 ) اگر آپ فی الوقت اسقدر علیل ہیں کہ روزہ رہنا دشوار ہے اور روزہ رہنے سے آپکی صحت متاثر ہوسکتی ہے تو طبعیت ٹھیک ہونے کے بعد ان روزوں کی قضاء کرلیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ۔ ترجمہ: اگر تم بیمار ہو یا سفر کی حالت میں ہو تو دوسرے دنوں میں روزے رکھ لو۔ ﴿البقرة : 184﴾ فتاوی عالمگیری ج1، کتاب الصوم ، الْبَابُ الْخَامِسُ فِي الْأَعْذَارِ الَّتِي تُبِيحُ الْإِفْطَارَ ، ص 207 میں ہے : ( وَمِنْهَا الْمَرَضُ ) الْمَرِيضُ إذَا خَافَ عَلَى نَفْسِهِ التَّلَفَ أَوْ ذَهَابَ عُضْوٍ يُفْطِرُ بِالْإِجْمَاعِ ، وَإِنْ خَافَ زِيَادَةَ الْعِلَّةِ وَامْتِدَادَهَا فَكَذَلِكَ عِنْدَنَا ۔ اگر طبعیت ٹھیک ہو اور روزہ رہنے سے اس پر کسی قسم کا اثر نہیں پڑتا ہو تو اس صورت میں روزہ رہنا لازم و ضروری ہے۔ جہاں تک بحالت روزہ بلڈ ٹسٹ کرنے کا سوال ہے تو اس سے روزہ فاسد نہیں ہوتا کیونکہ بلڈ ٹسٹ کیلئے خون نکالا جاتا ہے اور شریعت مطہرہ میں فاسد خون نکالنے کی اجازت ہے بشرطیکہ اس سے روزہ دار کوکمزوری لاحق نہ ہوتی ہو۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com