***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > نماز کا بیان > نماز کی سنتیں اور مستحبات

Share |
سرخی : f 123    مقتدی ‘درود ابراہیم پڑھتے وقت امام صاحب سلام پھیردیں تو کیا کریں؟
مقام : نظام آباد /india,
نام : فہیم احمد قادری
سوال:     باجماعت نماز پڑھتے وقت بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ امام صاحب سلام پھیردیتے ہیں اور پیچھے حضرات کادرود ابراہیم بھی ختم نہیں ہوتا۔ ایسے وقت مقتدی حضرات کوکیا کرناچاہئے؟ کیادرود ابراہیم مکمل نہ پڑھنے کی وجہ اوردعا ماثورہ نہ پڑھنے کی وجہ سے نماز میں خلل واقع ہوگا۔یا نہیں ایسی صورت میں نماز صحیح ہوئی یا نہیں ؟
............................................................................
جواب:     ا مام کی اقتداء میں نماز ادا کرنے والا امام کے تابع ہوتا ہے اور امام اس کی نماز کا ضامن ہوتا ہے ۔ جیسا کہ جامع ترمذی شریف ابواب الصلوۃ ص ۱۵میں ہے حدیث پاک ہے :
عن ابوهريرہ ‘قال قال رسول الله صلی الله عليه وسلم الامام ضامن-
ترجمہ: سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ا رشاد فرمایا امام ضامن ہے۔
اگرمقتدی سے اذکار نماز سے کوئی چیز چھوٹ جائے یا اس سے سہو ہوجائے تو اس پر سجدہ سہو واجب نہیں ہوتا۔ مقتدی کو چاہئے کہ منافی نماز کوئی عمل نہ کرے اورامام کی پیروی واتباع کرتارہے۔ فتاویٰ عالمگیری ج 1 ص 421 میں ہے۔ سهوالمؤتم لايوجب السجدة
لہذاجوحضرات امام کے سلام پھیرنے تک درود ابراہیم اوردعاء ماثورہ مکمل طورپر نہیں پڑھ سکتے ان کی نماز میں کوئی خلل واقع نہیں ہوگا۔ نماز درست ہوگی۔
واللہ اعلم بالصواب –
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔
حیدرآباد دکن۔
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com