***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > زکوٰۃ کا بیان > سامان کی زکوٰۃ کے مسائل

Share |
سرخی : f 1233    سامان تجارت کی زکوٰۃ
مقام : وٹے پلی,
نام : محمد افسرالدین
سوال:    

میں کاروبار سے وابستہ ہوںمجھے زکوۃ کے بارے میں سوال کرنا ہے کہ ملبوسات، گاڑیوں ، کاروں اور دیگر چیزوں کے شورومس میں جو مال رکھا ہوتا ہے اس میں زکوٰۃ کا کیا حکم ہے؟ جبکہ یہ مال ہمارے پاس ہمیشہ رکھاہوا نہیں رہتا‘ مال فروخت ہوتا ہے پھر نیا مال آتا ہے اور یہی سلسلہ سال بھر جاری رہتا ہے۔ برائے مہربانی اطمینان بخش جواب عنایت فرمائیں۔


............................................................................
جواب:    

سامان کی زکوٰۃ اسی وقت واجب ہوتی ہے جب و ہ تجارت کے لیے ہو، اس کے لیے شرط یہ ہیکہ سامان تجارت کی قیمت نصاب تک پہنچتی ہو اور اس پر ایک سال گزر چکا ہو، شورومس میں جو ملبوسات، گاڑیاں، کاریں وغیرہ ہوتی ہیں ظاہر ہے وہ تجارت کی غرض سے ہی رکھی جاتی ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سامان تجارت کی زکوٰۃ نکالنے کا حکم فرمایا۔ سنن ابوداود شریف میں حدیث پاک ہے:عن سمرۃ بن جندب ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کان یامرنا ا ن نخرج الصدقۃ من الذی نعد للبیع۔ ترجمہ:سیدنا سمرۃ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو اس (سامان) کی زکوٰۃ نکالنے کا حکم فرماتے جسکو ہم فروخت کرنے کے لیے تیار کرتے تھے۔ (سنن ابی داود‘ کتاب الصلوۃ‘ باب العروض إذا کانت للتجارۃ ہل فیہا من زکاۃ‘ حدیث نمبر1546) لہٰذا ملبوسات، گاڑیاں، کاریں، مکانات اور وہ تمام چیزیں جو فروخت کرنے کے لیے ہوں سامان تجارت ہیں، ان کی قیمت نصاب تک پہنچنے کی صورت میں ان پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے۔ اگر سال کی ابتداء میں یہ تجارتی سامان کی قیمت نصاب تک پہنچی ہوئی ہو تو دوران سال سامان میں جو بھی اضافہ ہو وہ اختتام سال تک باقی رہا تو مجموعی سامان پر زکوٰۃ واجب ہوگی اور سال کے اختتام پر جو قیمت ہے زکوٰۃ ادا کرتے وقت وہی قیمت معتبر ہوگی۔ فتاوی عالمگیری میں الفصل الثانی فی العروض ہے: الزکاۃ واجبۃ فی عروض التجارۃ کائنۃ ما کانت إذا بلغت قیمتہا نصابا من الورق والذہب کذا فی الہدایۃ ویقوم بالمضروبۃ کذا فی التبیین وتعتبر القیمۃ عند حولان الحول بعد أن تکون قیمتہا فی ابتداء الحول مائتی درہم من الدراہم الغالب علیہا الفضۃ کذا فی المضمرات۔ واللہ اعلم بالصواب سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com