***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > زکوٰۃ کا بیان > صدقۂ فطر کے مسائل

Share |
سرخی : f 1236    صدقۂ فطرکا حکم
مقام : ممبئی,
نام : میر فیصل
سوال:    

مفتی صاحب قبلہ! میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ فطرہ کیوں واجب ہے؟ کیا ہمیں اس بارے میں کوئی حدیث شریف مل سکتی ہے؟ برائے مہربانی حدیث شریف کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں تو بڑی مہربانی ہوگی۔


............................................................................
جواب:    

اسلام نے معاشرہ کے ضرورتمند وتنگدست افراد کو خوشیوں میں شریک کرنے کی تاکید کی اور ہر مردوعورت بڑے چھوٹے پر صدقہ واجب کردیا تاکہ غریب ونادار افراد کو بھی عید کی خوشیوں سے حصہ مل سکےحضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عید الفطر کے موقع پر ہر چھوٹے بڑےمرد وعورت کی جانب سے صدقۂ فطر دینے کا حکم فرمایا اور نماز عید سے پہلے صدقہ کرنے کی تاکید فرمائی۔ جیسا کہ مسند احمد میں حد یث پا ک مذکور ہے: عن الحسن قال خطب ابن عباس الناس فی آخر رمضان فقال یا اھل البصرۃ ادوا زکاۃ صومکم قال فجعل الناس ینظر بعضھم الی بعض قال من ھا ھنا من اھل المدینۃ قوموا فعلموا اخوانکم فانھم لا یعلمون ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرض صدقۃ رمضان نصف صاع من بر او صاعا من شعیر او صاعا من تمر علی العبد والحر والذکر والانثی۔ ترجمہ: حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ماہ رمضان کے آخرمیں لوگوں سے خطاب کیا اور فرمایا:اے اہل بصرہ !تم اپنے روزوں کی زکوۃ اداکرو راوی کہتے ہیں لوگ ایک دوسرے کودیکھنے لگے توآپ نے فرمایا: یہاں اہل مدینہ میں سے کون ہیں؟ اٹھو اور اپنے بھائیوں کو سکھاؤکیونکہ وہ نہیں جانتے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آزاد وغلام مردوعوت پر رمضان کا صدقہ آدھا صاع گیہوں یا ایک صاع جویا ایک صاع کھجور مقررفرمایا ہے۔ (مسند احمد‘ حدیث نمبر: 3349) واللہ اعلم بالصواب سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com