***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > زکوٰۃ کا بیان > صدقۂ فطر کے مسائل

Share |
سرخی : f 1237    صدقۂ فطرکی ادائیگی کا وقت
مقام : ,
نام :
سوال:    

میں آپ سے صدقۂ فطر کے بارے میں سوال کرنا چاہتا ہوں ‘ میرا سوال یہ ہے کہ صدقۂ فطر کس وقت ادا کرنا چاہئے؟ اور اس کو ادا کرنے کا آخری وقت کیا ہے؟ اگر میں کسی وجہ سے عید کے دن ادا نہ کرسکوں تو کیا بعد میں ادا کرسکتا ہوں؟


............................................................................
جواب:    

صدقۂ فطر اس شخص پر واجب ہے جس کے پاس اتنا مال ہو جو نصاب تک پہنچتا ہواصلی حاجت سے زائداورقرض سے فارغ ہوصدقہ فطر اور زکوۃ کا نصاب ایک ہی ہے البتہ صدقۂ فطر واجب ہونے کیلئے مال کا نامی (بڑھنے والا) ہونا اور اس پر ایک سال گذر نا شرط نہیں ہے۔ (فتاوی عالمگیر ی ج1 ‘ ص 191 ) عید الفطر کی صبح صادق طلوع ہوتے ہی صدقۂ فطر واجب ہوجاتا ہے صدقہ فطر کی ادائی کا وقت تمام عمر ہے‘ زندگی بھر میں کسی بھی وقت ادا کیا جاسکتا ہےلیکن مستحب یہ ہے کہ عیدگاہ جانے سے پہلے ادا کیا جائے اور نماز کے بعدبھی دیا جاسکتا ہےجب تک ادا نہ کیا جائے برابر واجب الاداء رہے گا‘ خواہ کتنی ہی مدت گذر جائے ذمہ سے ساقط نہ ہوگا۔فتاوی عالمگیری ج 1 ص 192 میں ہے ’’ ووقت الوجوب بعد طلوع الفجر الثانی من یوم الفطر‘‘۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com