***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > زکوٰۃ کا بیان

Share |
سرخی : f 1239    بیوی کے زیورات کی زکوۃ
مقام : حمایت نگر,
نام : محمد ذاکر قادری
سوال:    

ایک شخص قرض کا شکار ہے اور جب وہ حساب کرتا ہے تو اسے پتہ چلتا ہے کہ وہ قرض میں مبتلا ہے اس لئے وہ زکوٰۃ ادا نہیں کرسکتا لیکن اس کی بیوی کے پاس 3لاکھ روپئے مالیت کے زیورات ہیں تو اب کیا ان پر زکوٰۃ واجب ہوگی؟


............................................................................
جواب:    

60گرام 755ملی گرام سونا یا 425گرام 285ملی گرام چاندی ہو تو سال گزرتے ہی زکوٰۃ واجب ہوتی ہے۔ اگر خاوند کے ذمہ قرض ہے اور قرض کی رقم نکالنے کے بعد وہ مذکورہ مقدار سونا یا چاندی یا اس کی قیمت کا مالک نہیں رہتا تو وہ صاحب نصاب نہیں‘ اس پر زکوۃ فرض نہیں ہے۔ زیورات چونکہ بیوی کی ملکیت میں داخل ہیں اسی لئے سال گزرنے کے بعد زیورات کی زکوٰۃ بیوی پر فرض ہے‘ خاوند کے قرض دار ہونے کی وجہ بیوی کے ذمہ سے زکوٰۃ کی فرضیت ساقط نہیں ہوتی لہٰذا بیوی کے لئے ضروری ہے کہ وہ سونے کاڈھائی فیصدنکالے اس کے لئے وہ یااپنے پاس جمع شدہ رقم سے یا شوہر سے رقم لے کر یاکوئی زیور فروخت کرکے اس کی رقم سے زکوۃ اداکرے ۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com