***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > زکوٰۃ کا بیان > صدقۂ فطر کے مسائل

Share |
سرخی : f 1246    کوئی شخص عید الفطر کے بعد مالدار ہو تو کیا صدقہ فطر واجب ہے ؟
مقام : حیدرآباد,
نام : محمد غوث محی الدین
سوال:     ہم 2011، کے رمضان میں فطرہ نہیں دے سکے لیکن اب ہمارے پاس "10" لاکھ کی پراپرٹی ہے ، جب ہم کس کے سے پیسے مانگنے گئے تو انہوں نے ہماری درخواست ٹھکرادی ، لیکن الحمد للہ ہم اب اچھی حیثیت سے ہیں، میرا سوال یہ ھیکہ کیا ہم اس وقت کا فطرہ اب دے سکتے ہیں ؟ اس وقت میرے والد باحیات تھے ، اب وہ نہیں ہیں،چند مہینے قبل ان کا انتقال ہوگیا –
............................................................................
جواب:     صدقہ فطر اس شخص پر واجب ہے جو نصاب کا مالک ہو، اس کا مال بنیادی ضرورت سے زائد اور قرض سے محفوظ ہو ، ‎ صدقہ فطر واجب ہونے کے لئے مال کا نامی ہونا یا اس پر سال گذرنا ضروری نہیں ، سونے کا نصاب 60 ، گرام 755،ملی گرام اور چاندی کا نصاب 425 ، گرام 285،ملی گرام ہے ، اگر سونا یا چاندی کے نصاب کی مالیت موجود ہو تو صدقہ فطر واجب ہے –
صدقہ فطرکے واجب ہونے کا وقت عید کے دن طلوع فجر کے بعد ہے اور مستحب طریقہ یہ ہے کہ صدقہ فطر عیدگاہ جانے سے قبل ادا کیا جائے ، اگر اس وقت ادا نہ کیا گیا ہو تب بھی وہ عمر بھر واجب الاداء رہتا ہے تاوقتیکہ اسے ادا نہ کردیا جائے جیساکہ بدائع الصنائع ج 2، ص207، میں ہے :
وَأَمَّا وَقْتُ أَدَائِهَا فَجَمِيعُ الْعُمُرِ عِنْدَ عَامَّةِ أَصْحَابِنَا وَلَا تَسْقُطُ بِالتَّأْخِيرِ عَنْ يَوْمِ الْفِطْر-
    (بدائع الصنائع ج 2، ص207،كتاب الزكاة,فصل وقت اداء صدقة الفطر , ج 2، ص207)
اگر "2011" میں یا کسی اور سال عید الفطر کی صبح آپ مذکورہ نصاب کے مالک نہیں رہے اور بعد میں نصاب کے مالک ہوچکے تو اس سال آپ پر صدقہ فطر واجب نہیں ، ہاں اگر آپ نفل صدقہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو جتنا چاہیں کرسکتے ہیں ، علاوہ ازیں جس سال عید الفطر کی صبح آپ مذکورہ نصاب کے مالک رہے اس سال آپ پر صدقہ فطر واجب ہوچکا ، آپ کے ذمہ اس کا ادا کرنا ضروری ہے خواہ کتنا ہی عرصہ گزر چکا ہو-
اگر آپ کے والد محترم حسب صراحت بالا صاحب نصاب تھے اور انہوں نے انتقال سے پہلے وصیت کی کہ ان کے مال سے صدقہ فطر ادا کیا جائے تو وصیت کے مطابق مال کے ایک تہائی حصہ سے فطرہ ادا کیا جائےگا ، اگر انہوں نے وصیت نہیں کی تھی تو ان کے مال سے صدقہ فطر دینا ضروری نہیں البتہ اگر ورثہ خوش دلی سے ادا کریں تو بہتر ہے اور سعادتمندی و حسن سلوک کی علامت ہے  ، جیساکہ فتاوی عالمگیری میں ہے :
وَإِذَا مَاتَ مَنْ عَلَيْهِ زَكَاةٌ أَوْ فِطْرَةٌ أَوْ كَفَّارَةٌ أَوْ نَذْرٌ لَمْ يُؤْخَذْ مِنْ تَرِكَتِهِ عِنْدَنَا إلَّا أَنْ يَتَبَرَّعَ وَرَثَتُهُ بِذَلِكَ ، ، وَإِنْ أَوْصَى بِذَلِكَ يَجُوزُ وَيَنْفُذُ مِنْ ثُلُثِ مَالِهِ كَذَا فِي الْجَوْهَرَةِ النَّيِّرَةِ .
(فتاوی عالمگیری ،ج 1،ص 193, كتاب الزكاة , الباب الثامن في صدقة الفطر )
اگر وہ صاحب نصاب نہیں تھے تو پھر ان کی طرف سے صدقہ فطر ادا کرنا ضروری نہیں ، آپ صدقہ نافلہ ، خیر خیرات و غیرہ کے ذریعہ ان کے لئے ایصال ثواب کرسکتے ہیں -
واللہ اعلم بالصواب –
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ،
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com
حیدرآباد دکن۔
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com