***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاملات > حلال و حرام کا بیان

Share |
سرخی : f 1255    ٹسٹ ٹیوب بے بی کے ذریعہ اجنبی مرد کا مادۂ تولید استعمال کرنے کا حکم
مقام : یو اے ای,
نام :
سوال:    

مجھے ذیابطیس ہے‘ میری شادی ہوکر چار سال ہوئے لیکن اب تک اولاد نہیں ہوئی ، ڈاکٹر نے مجھ سے کہا کہ میرے اندر مادۂ تولید ہے ، ڈاکٹر نے مشورہ دیا کہ کسی دوسرے شخص کا مادۂ تولید لے کر میری بیوی کے رحم میں ڈالیں ۔ کیا یہ اسلام میں جائز ہے؟


............................................................................
جواب:    

ٹسٹ ٹیوب استعمال کرنے کی وہ تمام صورتیں بالکل ناجائز ہیں جن میں مرد کامادۂ منویہ اجنبی عورت کے بیضۃ المنی سے ملایا جائے یا شوہر اور بیوی کا مادہ ملاکر اجنبی عورت کے رحم میں پرورش کے لئے رکھا جائے۔ سنن ابو داؤد شریف میں حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے: لا یحل لامریٔ یؤمن باللہ والیوم الآخر أن یسقی ماء ہ زرع غیرہ. ترجمہ: اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والے کسی شخص کے لئے حلال نہیں کہ اپنے پانی سے کسی دوسرے کی کھیتی کو سیراب کرے یعنی اپنی بیوی کے سوا کسی اور کے رحم میں ڈالے۔ (سنن ابوداود ، کتاب النکاح ، باب فی وطء السبایا ، حدیث نمبر 2160 ۔مسند احمد ، حدیث رویفع بن ثابت ، حدیث نمبر 17453) مذکورہ صورت میں اجنبی مادوں کا اختلاط ہورہا ہے جو ازروئے حدیث شریف ممنوع ہے، جس طرح اجنبی مرد و عورت کا باہم ازدواجی تعلق قائم کرنا یا دوسرے کی منکوحہ یا معتدہ سے عمل تزویج کرنا، حرام کاری اور زنا ہے، اسی طرح اجنبی مرد و عورت کے مادوں کا اختلاط یا اجنبی عورت کے رحم میں مادہ رکھنا انجام کے لحاظ سے یہی حکم رکھتا ہے، اگرچہ مصنوعی طور پر مادوں کے اس اختلاط کے سبب،زنا کی شرعی حد جاری نہیں کی جائے گی لیکن زنا کی مانند اس کے نتائج بھی نقصاندہ و ضرر رساں ،حیا کی چادرکو تارتار کرنے والے اور نظام نسب کو درہم برہم کرنے والے ہیں۔ لہذا یہ شرعاً جائز نہیں کہ اجنبی مرد کا مادۂ تولید آپ کی اہلیہ کے رحم میں ڈالا جائے۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com