***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاملات > وصیت کا بیان

Share |
سرخی : f 1256    وارث کے حق میں وصیت کا حکم
مقام : محبوب نگر,
نام : عبدالسلام قادری
سوال:    

ایک صاحب نے اپنے غیر شادی شدہ دولڑکوں کے حق میں وصیت کی کہ میرے مرنے کے بعد میرا مکان ان دولڑکوں کے حصہ میں ہوگا ، میرے دیگر اولاد کواس مکان میں کوئی حق نہیں ہوگا ، میں نے ان کی شادی کرکے ان کا حق ادا کردیا ہے والد کانتقال ہوچکاہے کیادوسرے لڑکوں کیلئے مکان میں حق سنہ ہوگا ؟ جبکہ مرحوم نے اپنے ترکہ میں مکان کے سواکچھ نہیں چھوڑا؟


............................................................................
جواب:    

شریعت اسلامیہ نے ورثہ کے حصہ مقررو متعین کردئیے ہیں اور ہر صاحب حق کو اس کا حق عطاکردیا ہے جس میں انسان دخل دینے کامجاز نہیں اور ورثہ چونکہ مورث کے انتقال کے بعد بہر طور اسلام کے مقررکردہ نظام وراثت کے مطابق اپنے حصے پاتے ہیں اسی لئے ان کے حق میں وصیت کو روانہیں رکھا گیا ہے جیسا کہ ترمذی شریف ج 2ص23میں روایت ہے عن ابی امامۃ الباہلی رضی اللہ عنہ قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول فی خطبۃ عام حجۃ الوداع ان اللہ تبارک وتعالی قداعطی کل ذی حق حقہ فلا وصیۃ لوارث حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے حجۃ الوداع کے سال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ میں ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے بے شک اللہ تعالی نے ہر صاحب حق کو اس کا حق عطا کردیا ہے لہذا کسی وارث کے حق میں کوئی وصیت نہیں ۔ صاحب مذکونے اپنے جن دولڑکوں کے حق میں وصیت کی ہے وہ ازروئے شرع نافذ نہیں ہوگی اور تمام لڑکے شرعاً متروکہ سے اپنا حصہ وراثت پائیں گے وصیت کے باب میں مندرجہ ذیل روایت ہمیشہ پیش نظررہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بعض مردوعورت ساٹھ سال تک اللہ کی اطاعت وفرمانبرداری میں لگے رہتے ہیں لیکن بوقت وفات وصیت میں جب کسی کو ضرر پہنچاتے ہیں تواس کے سبب وہ جہنم کے مستحق ہوجاتے ہیں ، ترمذی شریف ج 2،:ص 32ابواب الوصایا باب ماجاء فی الوصیۃ بالثلث میں حدیث پاک ہے۔ عن ابی ہریرۃ انہ حدثہ عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال ان الرجل لیعمل والمرأۃ بطاعۃ اللہ ستین سنۃ ثم یحضرہم الموت فیضاران فی الوصیۃ فیجب لہما النار۔ ۔ ۔ ونیزحضو راکرم صلی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : من قطع میراث وارثہ قطع اللہ میراثہ من الجنۃ یوم القیامۃ (سنن ابن ماجہ ج 1ص 266) جو شخص اپنے وارث کو میراث سے محروم کردے گا اللہ تعالی بروزقیامت جنت سے اس کا حصہ منقطع فرمادے گا ۔ مرحوم کے دیگر ورثہ اگر آمادہ ہوں تو مذکورہ دولڑکوں کے حق میں وصیت نافذ ہوسکتی ہے ورنہ نہیں فتاوی عالمگیری ج 6کتاب الوصایا الباب الاول فی تفسیر ہا وشرط جو ازہا وحکماص 90 میں ہے ولاتجوزالوصیۃ للوارث عندنا الاان یجیزہا الورثۃ ولواوصی لوارثہ ولاجنبی صح فی حصۃ الاجنبی ویتوقف فی حصۃ الوارث علی اجازۃ الورثۃ ان اجازواجاز وان لم یجیزوابطل ۔ واللہ اعلم بالصواب سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com