***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاملات > حلال و حرام کا بیان

Share |
سرخی : f 1260    چوری سے بچاؤ کیلئے کتا رکھنا
مقام : وٹے پلی.انڈیا,
نام : ماجد حسین
سوال:    

چوری اور خون خرابہ کے واقعات میں دن بدن اضافہ ہو رہاہے جس کی وجہ سے لوگوں میں خوف پیدا ہوگیا ہے کیا ایسی صورت میں کتا پالنے کی اجازت ہے جبکہ وہ حرام جانور ہے ؟


............................................................................
جواب:    

حفاظت مال و مویشی اور زراعت کیلئے کتا پالنا جائز ہے ۔بغیر ان اغراض کے پالنا ناجائز ہے ۔حضورپاک صلی اللہ علیہ وسلم نے کتا رکھنے پر وعید بیان فرمائی ہے کہ نامہ اعمال سے ہر دن نیکیاں کم ہوجاتی ہیں البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شکار کیلئے اور مویشیوں کوبھیڑئے وغیرہ سے بچانے کیلئے کتا رکھنے کی اجازت مرحمت فرمائی ہے۔ زجاجۃ المصابیح ج 3 ص 304 میں بخاری ومسلم کی حدیث شریف ہے ۔ ’’عن ابن عمر قال قال رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من اقتنی کلبا الا کلب ماشیۃ او ضار نقص من عملہ کل یوم قیراطان متفق علیہ ‘‘ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما روایت کرتے ہیں کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص حفاظت والے اور شکاری کتے کے سوا کوئی کتا رکھے اسکے اعمال میں سے روزانہ دو قیراط (کے برابر اعمال ) کم ہوجائیں گے ۔ اسی وجہ سے بغیر کسی فائدہ کے کتا رکھنا مکروہ ہے البتہ کسی ضرورت اور منفعت کے تحت رکھنا جائز ہے اس میں کوئی حرج نہیں۔ بنا بریں حفاظت والے اور شکاری کتے پر قیاس کرکے جان ومال کی حفاظت اور چوروں کے شر سے بچنے کیلئے کتا رکھنے کی اجازت دی گئی ہے فتاوی عالمگیری ج6 ص 640 میں ہے ’’ لا ینبغی ان یتخذ کلباً الا ان یخاف من اللصوص او غیرھم ۔ ۔ ۔ بان اقتناء الکلب لاجل الحرس جائز شرعاً ‘‘ چوروںوغیرہ کے خوف سے کتا رکھنے میں حرج نہیں کیونکہ حفاظت اور نگرانی کیلئے کتارکھنا شرعاً جائزہے ۔ حاشیہ زجاجۃ المصابیح ج 3ص305میں ہے ۔ ’’ لان کل کلب یصلح لحراسۃ الماشیۃ اذمن عادۃ الکلاب نباحھا عند حس الذئب او السارق‘‘ ہرکتا حفاظت کی صلاحیت رکھتا ہے کیوں کہ بھیڑئے یا چور کو دیکھنے کے وقت بھونکنا کتوں کی عادت ہے ۔ واللہ اعلم بالصواب– سیدضیاءالدین عفی عنہ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر۔ حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com