***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > نماز کا بیان > اذان کے مسائل

Share |
سرخی : f 1262    وقت سے پہلے اذان کا حکم
مقام : اے سی گارڈ , حیدرآباد،انڈیا,
نام : خواجہ نظام الدین
سوال:     نمازوں کے لئے مسجد میں اذان کب کہنا چاہئے،مسجدوں میں اذان کا وقت مقرر ہوتا ہے،کبھی وقت بھی شروع نہیں ہوتا لیکن لوگوں کی جانب سے مقرر کئے ہوئے وقت پر اذان ہوجاتی ہے، کیا شریعت میں اس طرح اذان کہنا صحیح ہوگا؟اگر وقت شروع ہونے سے پہلے اذان کہہ دی گئی تو نماز کا کیا حکم ہے؟کیا نماز لوٹانا ہوگا؟بیان فرمائیں-شکریہ
............................................................................
جواب:     اذان کے سلسلہ میں حکم شریعت یہ ہیکہ وقت شروع ہو نے کے بعد اذان کہی جائے ،اگر وقت شروع ہونے سے پہلے اذان کہہ دی جائے تو وہ معتبر نہ ہوگی،دوبارہ اذان کہنی چاہئے،اگر واقعۃ نماز کا وقت شروع ہونے سے پہلے اذان کہہ دی گئی ہو تو وقت شروع ہونے کے بعد نماز کی ادائیگی سے قبل اذان کہنی چاہئیے،اگر وقت سے قبل اذان کہنے کی صورت میں بعد میں اعادہ نہ کیا جائے تو اذان کہنا جو سنت مؤکدہ وشعائر اسلام سے ہے‘ کی خلاف ورزی عمل میں آئے گی جو کہ سخت گناہ ہے۔ تاہم نماز اداہوجائیگی،لوٹانے کی ضرورت نہیں، لیکن اس طرح کی غفلت سے پرہیز لازم ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ،
ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com
حیدرآباد دکن۔
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com