***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > حج وعمره کا بیان

Share |
سرخی : f 1272    استطاعت سے قبل ادا کئے گئے حج کا حکم
مقام : دلسکھ نگر،حیدرآباد,
نام : محمد شاہ زیب
سوال:     السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!میں اپنے ایک سوال کا جواب جاننا چاہتاہوں کہ آج سے تقریباً بیس سال پہلے میں سعودی عرب میں کام کرتا تھا،ہمارا علاقہ مکہ مکرمہ سے قریب تھا،اپنی ملازمت کے دوران ایک سال میں نے حج کیاتھا،اس وقت میں استطاعت والا نہیں تھا۔میں نے ایک مولانا سے سنا کہ"حج،استطاعت کے بعد فرض ہوتا ہے"اب میں اللہ کے فضل سے استطاعت والا ہوں،تو کیا اب میرے اوپر حج کرنا فرض ہوگا؟
............................................................................
جواب:     وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!حج ہر مسلمان،عاقل وبالغ،صاحب استطاعت پر زندگی میں ایک مرتبہ فرض ہے،حج فرض ہونے کے لئے استطاعت کا مطلب یہ ہے کہ بیت اللہ شریف تک رسائی ہوجائے ، جب آپ بیت اللہ شریف پہنچ چکے اور آپ نے حج ادا کرلیاہے تو آپ کے ذمہ فرضیت باقی نہ رہی ، اب آپ حج کا ارادہ رکھتے ہیں تو یہ بڑی سعادت مندی ہے ، یہ آپ کے لئے نفل حج ہوگا۔
مجمع الانھر فی شرح ملتقی الابحر میں ہے : ولو حج الفقیر ثم استغنی لم یحج ثانیا لان شرط الوجوب التمکن من الوصول الی موضع الاداء الا تری ان المال لایشترط فی حق المکی۔(مجمع الانھر فی شرح ملتقی الابحر ، کتاب الحج ، ص319)
واللہ اعلم بالصواب –
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com
حیدرآباد دکن
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com