***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > نماز کا بیان > غسل ،تجہیز وتکفین اور تدف

Share |
سرخی : f 1273    میت کے سینہ پر کلمہ طیبہ لکھنا
مقام : حیدرآباد ، انڈیا,
نام : شیخ سلمان
سوال:    

مفتی صاحب ! حال ہی میں میرے کزن بھائی کا انتقال ہوا ، میں نے وہاں پر کفن پہناتے وقت دیکھا کہ ایک صاحب میت کی پیشانی پر بسم اللہ الرحمن الرحیم اور سینہ پر اپنی انگلی سے کلمہ طیبہ لکھے ہیں ، ان کے ہاتھ میں کوئی قلم وغیرہ تو نہیں تھا لیکن وہ انگلی سے لکھ رہے تھے، کیا اس طرح میت کی پیشانی یا سینہ پر کلمہ طیبہ وغیرہ لکھنا درست ہے ؟ برائے مہربانی جواب عنایت فرمائیں۔


............................................................................
جواب:    

میت کو غسل دینے کے بعد شہادت کی انگلی سے سیاہی کے بغیر میت کی پیشانی پر بسم اللہ الرحمن الرحیم اور سینہ پر کلمہ طیبہ لکھنا درست ہے ۔ جیساکہ ردالمحتار علی الدرالمختار میں علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : نعم نقل بعض المحشین عن فوائد الشرجی أن مما یکتب علی جبہۃ المیت بغیر مداد بالأصبع المسبحۃ بسم اللہ الرحمن الرحیم وعلی الصدر لا إلہ إلا اللہ محمد رسول اللہ ، وذلک بعد الغسل قبل التکفین ا ہ۔ واللہ أعلم .(ردالمحتار ، کتاب الصلوٰۃ ، باب صلوٰۃ الجنازۃ) لہذا آپ نے جو طریقہ دیکھا ہے کہ میت کو غسل کے بعد پیشانی پر بسم اللہ الرحمن الرحیم اور سینہ پر کلمہ طیبہ لکھا گیا ہے وہ درست ہے ۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com