***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > نماز کا بیان > اذان کے مسائل

Share |
سرخی : f 1277    فرض نماز کی ادائیگی کے بعد اذان کہنا
مقام : انڈیا,
نام : سیدسراج الدین
سوال:    

جن نمازوں کے اوقات میں گنجائش ہے ، ان نمازوں کیلئے بعض مساجد میں جماعت کا وقت ایک دیڑھ گھنٹہ کے فرق سے مقرر کیا جاتا ہے ، اُن مساجد کے مؤذن حضرات بسا اوقات مصروفیت کی وجہ سے دوسری مسجد میں ابتدائی وقت نماز پڑھ لیتے ہیں اور اپنی مسجد میں صرف اذان کہہ کر رخصت ہوجاتے ہیں ، کیا موذن حضرات کا یہ عمل درست ہے ؟


............................................................................
جواب:    

اذان صرف فرض نمازوں کیلئے مشروع ہے ، نوافل کیلئے جائز نہیں ، مؤذن صاحب اذان کہہ کر لوگوں کو فرض نماز باجماعت پڑھنے کی دعوت و ترغیب دیتے ہیں ۔ اگر مؤذن صاحب کسی مسجد میں فرض نماز ادا کرلیں اور پھر اُس مسجد میں اذان کہیں جہاں وہ اذان کہنے کی خدمت انجام دے رہے ہیں اور نماز پڑھے بغیر چلے جائیں تو اُن کا یہ عمل ازروئے شرع درست نہیں ۔ رد المحتار ج1 ص592 میں ایک مؤذن کا دو مسجدوں میں نماز پڑھنے کے متعلق ایک مسئلہ بیان کیا گیا ہے ۔ لِأَنَّهُ إذَا صَلَّى فِي الْمَسْجِدِ الْأَوَّلِ يَكُونُ مُتَنَفِّلًا بِالْأَذَانِ فِي الْمَسْجِدِ الثَّانِي وَالتَّنَفُّلُ بِالْأَذَانِ غَيْرُ مَشْرُوعٍ ؛ وَلِأَنَّ الْأَذَانَ لِلْمَكْتُوبَةِ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ الثَّانِي يُصَلِّي النَّافِلَةَ ، فَلَا يَنْبَغِي أَنْ يَدْعُوَ النَّاسَ إلَى الْمَكْتُوبَةِ وَهُوَ لَا يُسَاعِدُهُمْ فِيهَا . ترجمہ: جب کوئی مؤذن پہلی مسجد میں نماز ادا کرلے تو دوسری مسجد میں اس کی اذان نفل ہوگی اور نفل اذان شرعاً جائز نہیں اور اذان فرض نماز کیلئے ہے جبکہ وہ دوسری مسجد میں نفل نماز ادا کررہا ہے تو اس کیلئے مناسب نہیں کہ وہ لوگوں کو فرض نماز کی طرف بلائے اور خود ان کے ساتھ فرض نماز ادا نہ کرے کیونکہ ایک نماز دو مرتبہ بطور فرض ادا نہیں کی جاسکتی ، دوسری مرتبہ نفل قرار پاتی ہے ۔ مذکورہ مسئلہ سے واضح ہوتا ہیکہ جب دوسری مسجد میں نماز ادا کرنے کا ارادہ ہو تب بھی اذان کہنا درست نہیں تو اس شخص کا اذان کہنا کیونکر درست ہوسکتا ہے جو اذان کہنے کے بعد مسجد میں باجماعت نماز ادا کئے بغیر جانا چاہتا ہے ۔ اگر چہ وہ پہلے کسی مسجد میں فرض ادا کرچکا ہو ۔ اس سے کئی خرابی لازم آتی ہیں ۔ (1) ایک مسجد میں نماز ادا کرنے کے بعد دوسری مسجد میں اذان نفل ہوگی جبکہ اذان بطور نفل جائز نہیں ۔ (2) دوسری مسجد میں اذان کہنا نفل نماز کیلئے ہوگا جبکہ نوافل کیلئے اذان درست نہیں ۔ (3) دوسری مسجد میں اذان کہنے والا جو فرض نماز پڑھنے کی ترغیب دے رہا ہے ، وہ خود اس پر عمل پیرا نہیں ۔ واللہ اعلم بالصواب ۔ سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com