***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > حج وعمره کا بیان > طواف کے مسائل

Share |
سرخی : f 1293    طواف کے درمیان نمازجنازہ اور طواف کا حکم
مقام : گولی گوڑہ،انڈیا,
نام : عنایت بیگ
سوال:    

اس سال میں اپنے احباب کے ساتھ حج کا ارادہ رکھتا ہوں ،مجھے طواف کے بارے میں ایک سوال کرنا ہے‘ نمازوں کے اوقات کے علاوہ کسی وقت اگر جنازہ آئے اور ہم طواف کررہے ہوں تو ہمیں طواف کے دوران کیا کرنا چاہئے ، جب نماز جنازہ باجماعت اداکی جارہی ہے اور ہم اس میں شریک ہوجائیں توطواف ٹوٹ جائے گا، ایسی صورت میں ہمیں کیا کرنا چاہئے؟


............................................................................
جواب:    

اگر مسجد حرام میں جنازہ آجائے‘ امام صاحب نماز جنازہ پڑھ رہے ہوں اور طواف کرنے والے حضرات نماز جنازہ میں شریک ہوجائیں تو اس کی وجہ سے اُن کا طواف نہیں ٹوٹتا، ان کے لئے حکمِ شریعت یہ ہے کہ جس مقام پر انہوں نے طواف موقوف کرکے نماز جنازہ میں شرکت کی اُسی مقام سے طواف کرتے ہوئے مابقی چکر پورے کرلیں ۔ درمختار ‘ج2‘ کتاب الحج ‘فصل فی لاحرام وصفۃ المفرد ص 182میں ہے: ولوخرج منہ اومن السعی الی جنازۃ اومکتوبۃ اوتجدید وضوء ثم عاد بنی۔ رد المحتار،ج2، کتاب الحج ، فصل فی الإحرام وصفۃ المفرد بالحج،ص183،میں ہے: بقی ما إذا حضرت الجنازۃ أو المکتوبۃ فی أثناء الشوط ہل یتمہ أو لا ؟ لم أر من صرح بہ عندنا وینبغی عدم الإتمام إذا خاف فوت الرکعۃ مع الإمام وإذا عاد للبناء ہل یبنی من محل انصرافہ أو یبتدء الشوط من الحجر ؟ والظاہر الأول قیاسا علی من سبقہ الحدث فی الصلاۃ ثم رأیت بعضہم نقلہ عن صحیح البخاری عن عطاء بن أبی رباح التابعی وہو ظاہر قول الفتح بنی علی ما کان طافہ واللہ أعلم۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com