***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عقائد کا بیان > نبوت و رسالت کا بیان

Share |
سرخی : f 130    سر کش اونٹ سجدہ ر يز ہوگیا
مقام : انڈیا,
نام : رحیم
سوال:    

میں نے ایک واقعہ سنا کہ ایک اونٹ بدک گیا تو اونٹ والے صاحب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا میرا اونٹ سر کش ہوگیا وہ اونٹ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو آپ کو سجدہ کیا ، کیا یہ واقعہ صحیح ہے ؟ برائے مہربانی حوالہ کے ساتھ جواب مرحمت فرمائیں ۔


............................................................................
جواب:    

یہ واقعہ مدینہ طیبہ میں پیش آیا، اونٹ کے مالک ایک انصار ی صحابی ہیں اس واقعہ کو امام احمد نے اپنی مسندمیں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے جس کو شارح بخاری امام قسطلانی نے مواہب لدنیہ میں اور امام زرقانی نے اس کی شرح میں ذکرکیاہے۔ مسندامام احمد . مسند أنس بن مالك (12949) کے حوالہ سے حدیث پاک نقل کی جاتی ہے؛ عن حفص عن عمه أنس بن مالك قال كان أهل بيت من الأنصار لهم جمل يسنون عليه وإن الجمل استصعب عليهم فمنعهم ظهره وإن الأنصار جاءوا إلى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فقالوا إنه كان لنا جمل نسنى عليه وإنه استصعب علينا ومنعنا ظهره وقد عطش الزرع والنخل. فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم- لأصحابه « قوموا ». فقاموا فدخل الحائط والجمل فى ناحية فمشى النبى -صلى الله عليه وسلم- نحوه فقالت الأنصار يا رسول الله إنه قد صار مثل الكلب الكلب وإنا نخاف عليك صولته. فقال « ليس على منه بأس ». فلما نظر الجمل إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم أقبل نحوه حتى خر ساجدا بين يديه فأخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم بناصيته أذل ما كانت قط حتى أدخله فى العمل فقال له أصحابه يا رسول الله هذه بهيمة لا تعقل تسجد لك ونحن نعقل فنحن أحق أن نسجد لك. فقال « لا يصلح لبشر أن يسجد لبشر ولو صلح لبشر أن يسجد لبشر ۔ ۔ ۔ ترجمہ: حضرت حفص رضی اللہ عنہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: انصار میں ایک گھروالوں کا ایک اونٹ تھا جس سے وہ زراعت کے لئے پانی کیا کرتے تھے وہ سرکش ہوگیا اور لوگوں کوسوار ہونے نہ دیتا ، انصار حضرت رسول اللہ صلی علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کئے کہ ہمارا ایک اونٹ ہے جس کے ذریعہ زراعت کیلئے پانی لیا کرتے تھے وہ سرکش ہوچکا ہے ہمیں سواری سے روکتاہے اور کھیت او رکھجور کے درخت سوکھ چکے ہیں تو حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا اٹھو تووہ اٹھے اور حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باغ میں تشریف لائے اونٹ ایک گوشہ میں تھا تو حضرت رسول اللہ صلی علیہ وسلم ان کی جانب تشریف لے گئے ۔ انصار نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ اونٹ دیوانہ کتے کی طرح ہوگیاہے ، ہمیں خوف ہے کہ کہیں آپ پر حملہ نہ کرے آپ نے فرمایا مجھے اس سے کوئی اندیشہ نہیں ، جب اونٹ نے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو آپ کی جانب بڑھا او رآپ کے سامنے سجد ہ میں گرگیا حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی پشانی کے بال پکڑے وہ ایسا مسخر وفرمانبردار ہوگیا کہ پہلے کبھی نہ تھا یہاں تک کہ آپ نے اسے کام میں لگادیا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ کی خدمت اقدس میں عرض کیا : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !یہ جانور ہے عقل نہیں رکھتا آپ کو سجدہ کرتاہے او رہم عقل وسمجھ رکھتے ہیں ہم زیادہ مستحق ہیں کہ آپ کو سجدہ کریں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی بشرکے لئے سزاوار نہیں کہ دوسرے بشر کو سجدہ کرے۔﴿مسندامام احمد . مسند أنس بن مالك،حدیث نمبر؛ 12949﴾ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com حیدرآباد

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com