***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاملات > قربانی کا بیان

Share |
سرخی : f 1301    نابالغ صاحب نصاب پر قربانی؟
مقام : انڈیا,
نام : کریم الدین
سوال:     میرے پڑوس میں ایک کمسن لڑکا رہتا ہے جو پڑھائی میں بہت زیادہ ہوشیار ہے ،حال ہی میں اُسے ایک ایجوکیشن سوسائٹی کی جانب سے پچاس ہزار کا ایوارڈ ملاہے ، اب قربانی کا موقع ہے ، کیا وہ لڑکا اسلامی قانون کے مطابق مالدار ہے ؟ اور کیا اُسے قربانی کرنا ہوگا؟ یا بچہ کی رقم سے جانور خرید کر والدین قربانی کریں ؟ برائے مہربانی جواب عنایت فرمائیں ۔
............................................................................
جواب:     کتب فقہ وفتاوی میں قربانی کے واجب ہونے کے شرائط کے ضمن میں بالغ ہونا مذکور نہیں، چنانچہ اس لحاظ سے نابالغ اگر مالدار ہو تو اس پر قربانی واجب ہے، تاہم اس پر قربانی واجب نہ ہونے کا قول بھی مذکور ہے، علامہ علاء الدین حصکفی رحمۃ اللہ علیہ نے درمختار میں نابالغ پر قربانی واجب نہ ہونے کے قول کو راجح ومفتی بہ قرار دیاہے ۔ درمختار برحاشیہ ردالمحتار، ج5،کتاب الاضحیۃ ،ص223 میں ہے:
ولیس للاب ان یفعلہ من مال طفلہ ورجحہ ابن الشحنۃ قلت وھوالمعتمد لمافی متن مواھب الرحمن من انہ اصح مایفتی بہ۔
ترجمہ: والد کیلئے روا نہیں کہ وہ اپنے نابالغ لڑکے کے مال سے قربانی کرے، یہی قابل اعتماد اور مفتی بہ قول ہے۔ اسی طرح بچوں کی طرف سے والدین یا سرپرست حضرات کا خود اپنے مال سے قربانی کرنا بھی شرعاً واجب نہیں البتہ اگر والدین اپنے مال سے انکی جانب سے قربانی کریں تو مستحب ومستحسن ہے۔  
ردالمحتار، کتاب الأضحیۃ ج5 ص222 میں ہے: (قولہ لا عن طفلہ )أی من مال الأب ط (قولہ علی الظاہر )قال فی الخانیۃ : فی ظاہر الروایۃ أنہ یستحب ولا یجب ، بخلاف صدقۃ الفطر.   ترجمہ: والد پر اپنی نابالغ اولاد کی جانب سے قربانی کرنا ضروری نہیں، ظاہر الروایہ میں ہیکہ اولاد کی جانب سے قربانی کرنا مستحب ہے، واجب نہیں، برخلاف صدقۂ فطر کے ۔(کہ وہ نابالغ اولاد کی جانب سے والد پر واجب ہے )۔
واللہ اعلم بالصواب –
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com
حیدرآباد دکن۔
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com