***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاملات > قربانی کا بیان > قربانی کے جانور

Share |
سرخی : f 1303    جانور کے پیر میں زخم آئے تو قربانی کا حکم
مقام : ،بلہاری ،کرناٹک،انڈیا,
نام : محمد ایوب پاشاہ
سوال:    

ایک صاحب نے قربانی کی نیت سے بکری خریدی ، اس کے ایک پیر پرایک انگلی کے برابر زخم آگیا جس کی وجہ سے پیر خون آلود ہوگیا اور زخم میں کیڑے پیدا ہوگئے تھے ، دوائی کے ذریعہ کیڑوں کونکال دیاگیا اور زخم کو صاف کردیا گیا ، اب بکری اچھی طرح چل رہی ہے ایسی بکری کی قربانی صحیح ہے یا نہیں ، کیا اس زخم کو عیب میں شمار کیا جائےگا ؟


............................................................................
جواب:    

قربانی کے ذریعہ بندہ اللہ تعالی کی بارگاہ میں قرب حاصل کرتا ہے لہذا قربانی کے لئے ایسے جانور کا انتخاب کرنا چاہئیے جو فربہ ، صحیح وسالم ہو ، اندھا ، لنگڑا ، بیمار ،کمزور نہ ہو- مسند امام احمد بن حنبل ،مسند البراء بن عازب رضی اللہ عنہ میں حدیث مبارک ہے : (حدیث نمبر :(18200)عن البراء بن عازب ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سئل ماذا یتقی من الضحایا فقال اربع وقال البراء ویدی اقصرمن ید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم العرجاء البین ظلعھا والعوراء البین عورھا والمریضۃ البین مرضھا والعجفاء التی لاتنقی ۔ ترجمہ : سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ کن جانوروں کی قربانی نہیں کرنا چاہئیے ! توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : چار ،حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے فرمایا اور میرا ہاتھ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک سے چھوٹا وکمتر ہے :(1) ایسا لنگڑا جانور جس کا لنگڑا پن ظاہر ہو(2) کاناجس کا کانا ہونا واضح ہو(3) بیمار جس کا مرض ظاہر ہو(4) ایسا کمزور ولاغر جس کی ہڈیوں میں گود نہ ہو، نیز یہ روایت سنن کبری للبیہقی میں بھی مذکورہ ہے (حدیث نمبر :19632) جانور کے عیوب کی نشاندہی سے متعلق دیگر احادیث شریفہ بھی وارد ہیں ، اگر کوئی جانور زخم کی وجہ یا کسی اورسبب تین پیر سے چلتا ہے ،ایک پیر کا سہارا نہیں لیتا تو ایسے جانور کی قربانی درست نہیں ، اگر اس پیر کے سہارے سے چل رہا ہے توقربانی درست ہے ۔ دریافت طلب مسئلہ میں اگر بکری کے پیر پر انگلی کے برابر زخم ہونے کے باوجود وہ زخم آلودہ پیرٹیک کر اچھی طرح چل رہی ہے تو اس کی قربانی شرعا ًدرست ہے ، جیساکہ درمختار ج 5، کتاب الاضحیۃ ،ص 227، میں ہے (…لا) تجوزالتضحیۃ بھا ( والجرباء السمینۃ … (والعرجاء التی لاتمشی الی منسک) اور ردالمحتار ج ،5،کتاب الاضحیۃ،ص227،میں ہے : (قولہ والعرجاء) ای التی لایمکنھا المشی برجلھا العرجاء انما تمشی بثلاث قوائم حتی لوکانت تضع الرابعۃ علی الارض وتستعین بھا جازعنایۃ ۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com