***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاملات > شرکت کا بیان

Share |
سرخی : f 1306    شیر بزنس کا شرعی حکم
مقام : نظام آباد،انڈیا,
نام : ساجد
سوال:    

میرا ایک سوال ہے کہ میں شیر مارکٹ میں پیسہ لگانا چاہتا ہوں ،مہربانی فرماکر مجھے آپ بتلائیں یہ صحیح ہے یا نہیں؟


............................................................................
جواب:    

اسلامی نظام معاش میں خرید و فروخت اور سرمایہ کاری کے اصول و ضوابط بتلائے گئے ، کسی چیز کی تجارت جب اسلامی اصول و قواعد کے مطابق ہو تو جائز ہے – معاملات کا ایک بنیادی اصول یہ ہے کہ جانبین میں کسی ایک کی طرف سے دوسرے کو نقصان و ضرر نہ ہو ، اسی طرح معاملہ میں دھوکہ و غرر نہ ہو مستدرک علی الصحیحین ، کتاب البیوع میں حدیث پاک ہے : عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه ، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : « لا ضرر ولا ضرار ترجمہ : حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : نہ نقصان اٹھانا جائز ہے اور نہ نقصان پہنچانا درست ہے – (مستدرک علی الصحیحین ، کتاب البیوع ،حدیث نمبر :2305) شیر در اصل مال شراکت کا ایک ایسا متناسب حصہ ہے جو کمپنی کے سرمایہ اور اثاثوں کی صورت میں ہوتا ہے ، مال خواہ کسی ایک شخص کی ملکیت ہو یا چند افراد کا مشترک ہو اس کی خرید و فروخت جب اسلامی نظام معیشت کے اصول کے مطابق ہو تو جا‏ئز ہے – اس سلسلہ ميں چند بنیادی باتیں ملحوظ رکھنی چاہئے ! (1) جس کمپنی کے شیرز کی خرید و فروخت مطلوب ہے اس کا کاروبار حلال ہو ، کمپنی ایسی مصنوعات تیار کرتی ہو جن کا خریدنا اور فروخت کرنا شرعاً جائز ہو جیسے کمپیوٹرس ، دوائیں بنانے والی کمپنیاں وغیرہ ، ایسی کمپنیوں کے شیرز کی تجارت جائز ہے – اس کے برخلاف جس کمپنی کی مصنوعات شرعاً حرام ہو مثلاً شراب بنانے والی کمپنی ، اس کے شیرز خریدنا اور فروخت کرنا جا‏ئز نہیں – شیر ہولڈر کے حق میں کمپنی کی حیثیت وکیل کی ہے ، جس طرح مسلمان کے لئے حرام چیزوں کی خرید وفروخت حرام ہے اسی طرح ان حرام چیزوں کی خرید و فروخت کے لئے کسی کو وکیل بنانا بھی جائز نہیں ہے ، مسند امام احمد کی طویل روایت کا جز ملاحظہ ہو : عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ بَيْعِ الْخَمْر۔۔۔۔ قَالَ إِنَّ الَّذِي حَرَّمَ شُرْبَهَا حَرَّمَ بَيْعَهَا- ترجمہ : حضرت عبد الرحمن بن وعلہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا میں نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سےشراب کی تجارت کے بارے میں دریافت کیا ۔۔۔۔ انہوں نے فرمایا حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا یقیناً جس ذات نے اس کے پینے کو حرام کیا اس نے اس کی تجارت کو حرام کیا- (مسند امام احمد، مسند عبد الله بن العباس ، حدیث نمبر :1937) فتح القدیر ج 6،کتاب البیوع ، باب بیع الفاسد ، ص 403/404، میں ہے : ( وَإِذَا أَمَرَ الْمُسْلِمُ نَصْرَانِيًّا بِبَيْعِ خَمْرٍ أَوْ خِنْزِيْرٍ أَوْ شِرَائِهِمَا فَفَعَلَ جَازَ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعالي ) .... وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ وَمُحَمَّدٌ وَمَالِكٌ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ رَحِمَهُمْ اللَّهُ تَعَالَى : لَا يَصِحُّ هَذَا التَّوْكِيلُ .... لَهُمْ أَنَّ الْمُوَكِّلَ لَا يَمْلِكُ بِنَفْسِهِ فَلَا يَمْلِكُ تَوْلِيَةَ غَيْرِهِ فِيهِ .... وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ أَنَّ هَذِهِ الْوَكَالَةَ تُكْرَهُ أَشَدَّ مَا يَكُون مِنْ الْكَرَاهَةِ وَهِيَ لَيْسَ إلَّا كَرَاهَةُ التَّحْرِيمِ فَأَيُّ فَائِدَةٍ فِي الصِّحَّةِ- نیز درمختار برحاشیۂ رد المحتار ، ج 4 ،کتاب البیوع ، ص 135، میں اسی مسئلہ کے تحت ہے : وقالا: لا يصح، وهو الاظهر.شرنبلالية عن البرهان- (2) اگر کمپنی کا بنیادی کاروبار حلال ہو لیکن سرمایہ بڑھانے کے لئے یا انکم ٹیکس سے بچنے کے لئے کمپنی بنک سے قرض لیتی ہے یا بنک میں ڈپازٹ کرواتی ہے تو اس سلسلہ میں دار الاسلام اور دارالحرب کے اعتبار سے حکم علحدہ ہوگا – دار الحرب میں مسلمان اور غیر مسلم کے درمیان چونکہ بیوع فاسدہ جائز ہیں بشرطیکہ دھوکہ دہی کے ذریعہ نہ ہوں ، اور غیر مسلم کا مال مباح ہے ، بغیر دھوکہ دہی کے اس سے زائد مال حاصل ہوتو سود نہیں قرار پاتا ، جیساکہ فتح القدیر ج 7، کتاب البیوع ،ص 37 تا 39، میں ہے : ( وَلَا بَيْنَ الْمُسْلِمِ وَالْحَرْبِيِّ فِي دَارِ الْحَرْبِ ) خِلَافًا لِأَبِي يُوسُفَ وَالشَّافِعِيِّ رَحِمَهُمَا اللَّهُ ..... وَكَذَا إذَا بَاعَ مِنْهُمْ مَيْتَةً أَوْ خِنْزِيرًا أَوْ قَامَرَهُمْ وَأَخَذَ الْمَالَ يَحِلُّ ،( وَلِأَنَّ مَالَهُمْ مُبَاحٌ ) وَإِطْلَاقُ النُّصُوصِ فِي مَالٍ مَحْظُورٍ ، وَإِنَّمَا يَحْرُمُ عَلَى الْمُسْلِمِ إذَا كَانَ بِطَرِيقِ الْغَدْرِ ( فَإِذَا لَمْ يَأْخُذْ غَدْرًا فَبِأَيِّ طَرِيقٍ يَأْخُذُهُ حَلَّ ) بَعْدَ كَوْنِهِ بِرِضًا- بنابریں دارالحرب میں مسلمان اور غیر مسلم کے درمیان سود متحقق نہیں ہوتا ، چناچہ دارالحرب میں غیر مسلم بنک میں ڈپازٹ کرانے والی کمپنیوں کے شیرز خریدنا شرعاً جائز ہے ، اور دارالاسلام میں اس طرح کی کمپنی کے شیرز خریدنا سودی معاملہ قرار پاتا ہے جو شرعاً درست نہیں – بلا حاجت شدیدہ کے سودی قرض لینا جائز نہیں ہے البتہ سخت حاجت کی صورت میں علامہ ابن نجیم مصری رحمۃ اللہ علیہ نے سودی قرض حاصل کرنے کی اجازت دی ہے ، جیساکہ الاشباہ و النظائر میں ہے : وَيَجُوْزُ لِلمُحْتَاجِ اَلْاِسْتِقْراضُ بِالرِبْحِ- اسی بنا پر بنک سے قرض لینے والی کمپنیوں کے شیرز خریدنے کی گنجائش نکل سکتی ہے بشرطیکہ کمپنی کے ذمہ بصورت دیگر جتنا ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے اسی کے بقدر شرح سود ادا کرنی پڑے ، تاہم احتیاط کا تقاضہ یہ ہے کہ ایسی کمپنیوں کے شیرز خریدے نہ جائیں کیونکہ سرمایہ بڑھانے کے لئے یا انکم ٹیکس سے بچنے کے لئے کمپنی کا بنک سے قرض لینا کوئی سخت حاجت سمجھ میں نہیں آتا – بعض علماء کی رائے یہ ہے کہ ایسی کمپنیوں کے شیرز خریدنا دو شرطوں کے ساتھ جائز ہے : (1) ایک یہ کہ کمپنی کی سالانہ میٹنگ (Annual general meeting) میں اس سودی معاملات کے خلاف ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے آواز اٹھائی جائے ، کیونکہ کمپنی ، کاروباری لین دین میں شیر ہولڈر کے وکیل کی حیثیت رکھتی ہے ، اگر شیر ہولڈر سودی معاملہ سے متعلق اپنی مخالفت ظاہر کرے تو وہ سودی کاروبار سے اپنی حد تک برئ الذمہ ہوجائے گا خواہ اس کی مخالفت کمپنی پر اثر انداز ہو یا نہ ہو – (2) دوسری شرط یہ ہے کہ سودی معاملات سے آنے والے نفع کی شرح معلوم کرکے اس کو غرباء و مساکین پر صدقہ کردے – مذکورہ بالا صراحت کے مطابق جن کمپنیوں کے شیرز خریدنا جائز قرار پایا ہے ان کمپنیوں کے علی الاطلاق تمام شیرز خریدنا جائز نہیں بلکہ اس کی بعض صورتیں جائز ہے اور بعض ناجائز ، جن صورتوں میں شیرز اکاؤنٹ میں موجود ہوں وہ صورتیں و نیز (Sale on margin ) میں بروکر کی اصل رقم کے ساتھ زائد رقم نہ دینے کی صورت جائز ہے – البتہ شیرز اکاؤنٹ میں موجود نہ ہونے کی صورت ، بروکر کو اصل رقم کے ساتھ زائد رقم دینے کی صورت ، اور وہ تمام صورتیں جن میں سٹہ بازی اور جوا پایا جاتا ہے ناجائز ہیں – واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com