***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > طہارت کا بیان > حیض ونفاس کے مسائل

Share |
سرخی : f 1310    حمل ضائع ہوتو نماز کی ادائیگی کاحکم؟
مقام : حیدرآباد ,
نام : غیرمذکور
سوال:    

ہمارے خاندان میں ایک خاتون کا ایک مہینہ کا حمل ضائع ہوگیا، خاتون کے لئے نمازوں کا کیا حکم ہوگا؟ اُنہیں کب سے نمازیں شروع کرنی چاہئے؟ اگر ان کو خون نظر آئے تو کیا حکم ہوگا؟


............................................................................
جواب:    

فقہاء کرام نے آیات قرآنیہ واحادیث شریفہ کی روشنی میں لکھا ہے کہ ایک سو بیس دن یا اُس سے زائد عرصہ کا حمل ساقط ہوتو عورت نفاس والی قرار پاتی ہے اور وضع حمل کے احکام اس سے متعلق ہوتے ہیں ، اُس سے کم مدت ہوتو نہیں ۔ بنابریں ایک مہینہ کا حمل ضائع ہونے کی وجہ سے عورت نفاس والی نہیں ہوتی ۔ لہذا جس خاتون کا آپ نے سوال میں ذکر کیا وہ اپنی نمازیں بدستور ادا کرتی رہیں ، اگر ماہواری کی طرح خون دیکھتی ہیں اور وہ تین دن یا اُس سے زائد عرصہ تک جاری رہے تو اُسے ناپاکی شمار کریں ایسی صورت میں نماز کاحکم نہیں ہے ، اور اگر تین دن سے کم ہوتو ورنہ استحاضہ (یعنی بیماری کاخون )ہوگا ، اِس صورت میں ہرنماز کاوقت شروع ہونے کے بعد وضو کریں ، اس وضو سے اس وقت کی فرض نماز ، سنن ونوافل اور فوت شدہ نمازیں ادا کرسکتی ہیں جبکہ وضو کو توڑنے والی کوئی اور چیز نہ پائی جائے۔ درمختار میں ہے :( وسقط ) مثلث السین أی مسقوط ( ظہر بعض خلقہ کید أو رجل ) أو أصبع أو ظفر أو شعر ، ولا یستبین خلقہ إلا بعد مائۃ وعشرین یوما ( ولد ) حکما ( فتصیر ) المرأۃ ( بہ نفساء ۔ ۔ ۔ ) ۔ ۔ ۔ ۔ فإن لم یظہر لہ شیء فلیس بشیء ، والمرئی حیض إن دام ثلاثا وتقدمہ طہر تام وإلا استحاضۃ۔(درمختارمع ردالمحتار،کتاب الطھارۃ،باب الحیض) واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com