***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > نماز کا بیان > سجدۂ سہو کے مسائل

Share |
سرخی : f 1312    مقتدی سجدۂ تلاوت کے بجائے رکوع کرلے تو کیا حکم ہے؟
مقام : عادل آباد،انڈیا,
نام : محمد حمزہ
سوال:    

میں ایک مسئلہ کا حل جاننا چاہتاہوں، نماز کے دوران امام صاحب نے سجدہ کی آیت پڑھی اور انہوں نے سجدۂ تلاوت کیا،میں پیچھے کی صف میں تھا اور لائٹ چلی گئی تھی،امام صاحب کی تکبیر سن کر میں رکوع میں چلاگیا ،جب مجھے محسوس ہوا کہ لوگ سجدہ میں ہیں تو میں بھی سجدہ میں چلاگیا۔برائے مہربانی مجھے بتلائیے کہ میری نماز ہوئی ہے یا نہیں؟


............................................................................
جواب:    

امام صاحب نے سجدۂ تلاوت کیا اور مقتدی یہ سمجھ کر رکوع میں چلاجائے کہ امام صاحب نے رکوع کیا ہے تو ایسی صورت میں مقتدی رکوع توڑ کر سجدہ کرلے، اس سے مقتدی کی نماز میں کوئی فرق نہیں آتا،نماز درست ہوجائے گی۔

 جب امام صاحب کا سجدہ معلوم ہوتے ہی آپ نے بھی ان کے ساتھ سجدہ کرلیا تھا تو آپ کی نماز درست ہوگئی۔ جیساکہ در مختار میں ہے:ولو سجد لہا فظن القوم أنہ رکع ، فمن رکع رفضہ وسجد لہا ، ومن رکع وسجد سجدۃ أجزأتہ عنہا۔(رد المحتار،کتاب الصلاۃ،باب سجود التلاوۃ)

واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com