***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > حج وعمره کا بیان > مدینۂ طیبہ اور مسجد نبوی

Share |
سرخی : f 1314    مسجد قباء کی زیارت اوراسمیں نماز ادا کرنے کی فضیلت
مقام : ورنگل،انڈیا,
نام : محمد سلیم
سوال:     میں یہ جاننا چاہتاہوں کہ مسجد قباء میں نماز ادا کرنے کی کیا فضیلت ہے ،اور مسجد قباء کس دن جانا بہتر ہے؟ براہ مہربانی جواب عطا فرمائیں-
............................................................................
جواب:     مسجد قباء شریف میں دوگانہ ایک عمرہ کے برابر ہے ،سنن ابن ماجہ شریف میں حدیث مبارک ہے : قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ تَطَہَّرَ فِی بَیْتِہِ ثُمَّ أَتَی مَسْجِدَ قُبَاءٍ فَصَلَّی فِیہِ صَلاَۃً کَانَ لَہُ کَأَجْرِ عُمْرَۃٍ.   
ترجمہ:حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جو اپنی قیام گاہ سے باطہارت مسجد قباء آئے اور دو رکعت ادا کرے اسے عمرہ کا ثواب ہے-  
( سنن ابن ماجہ،حدیث نمبر:1477 ۔ جامع الأحادیث،حدیث نمبر:21785۔ الجامع الکبیر للسیوطی،حدیث نمبر:4516۔کنز العمال فی سنن الأقوال والأفعال،حدیث نمبر:34963)
ونیز جامع ترمذی ،سنن ابن ماجہ ،معجم کبیر طبرانی ،شعب الایمان اور مسند ابو یعلی وغیرہ میں حدیث مبارک ہے،حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:مسحد قباء میں نماز ادا کرنا عمرہ ادا کرنے کی طرح ہے-جیساکہ سنن ترمذی میں ہے : قَالَ  الصَّلاَۃُ فِی مَسْجِدِ قُبَاءٍ کَعُمْرَۃٍ -  
(سنن الترمذی،حدیث نمبر:325۔سنن ابن ماجہ،حدیث نمبر:1476۔المعجم الکبیر،حدیث نمبر:569۔شعب الإیمان للبیہقی،حدیث نمبر:4031۔مسند أبی یعلی الموصلی،حدیث نمبر:7015۔السنن الصغری للبیہقی،حدیث نمبر:1824۔جامع الأحادیث،حدیث نمبر:13639۔الجامع الکبیر للسیوطی،حدیث نمبر:119۔السنن الکبری للبیہقی،حدیث نمبر:10594۔کنز العمال فی سنن الأقوال والأفعال،حدیث نمبر:34962)
اب زیارت کیلئے کس دن جائے تو مستحب یہ ہیکہ ہفتہ کی صبح مسجد قباء کی زیارت کریں کیونکہ حضورِ انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم بھی اکثر اسی دن زیارت فرمایا کرتے ۔یہ مسجد مدینہ منورہ سے کسی قدر فاصلہ پر ہے ،زائر کو اختیار ہے کہ وہ سواری پر جائے یا پیادہ۔  
عَنِ ابْنِ عُمَررضی اللہ عنہماقَالَ کَانَ النَّبِیّ صلی اللہ علیہ وسلم یَأْتِی مَسْجِدَ قُبَاءٍ کُلَّ سَبْتٍ مَاشِیًا وَرَاکِبًا .
(بخاری، باب من أتی مسجد قباء کل سبت،حدیث نمبر: 1193)ونیز فتاوی عالمگیری  میں ہے:   وَیُسْتَحَبُّ أَنْ یَأْتِیَ مَسْجِدَ قُبَاءَ یَوْمَ السَّبْتِ-  ( فتاوی عالمگیری  ، کتاب المناسک ،خاتمۃ فی زیارۃ قبر النبی صلی اللہ علیہ وسلم)  
واللہ اعلم بالصواب –
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔  www.ziaislamic.com
حیدرآباد دکن
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com