***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > نماز کا بیان > امامت کے مسائل

Share |
سرخی : f 1315    امام کی اہمیت و ذمہ داری
مقام : انڈیا,
نام : شکیل احمد خان نقشبندی قادری
سوال:    

قرآن و حدیث کی روشنی میں امام صاحب کی اہمیت بتائیں ‘امام صاحب کے صفات اور ذمہ داریاں بتائیں.


............................................................................
جواب:    

امام کی اہمیت کا اس بات سے پتہ چلتا ہے کہ نماز جو افضل ترین عبادت ہے اس کا کوئی رکن اور کوئی حصہ امام کے بغیر تنہا ادا کرنے والا جماعت کا پچیس درجہ زیادہ ثواب نہیں پاسکتا اور مقتدی کے تمام ارکان امام سے منسلک ہیں۔ جب تک امام نماز شروع نہ کرے‘ مصلی نہ شروع کرسکتا ہے‘ نہ امام سے پہلے نماز ختم کرسکتا ہے‘ امام کے ولاالضالین پر مقتدی کو آہستہ آمین کہنے کا حکم ہے‘ امام سے پہلے نہ رکوع کرسکتا ہے نہ سجدہ۔ صحیح بخاری شریف میں ہے: انما جعل الامام لیؤتم بہ فاذا صلی قائما فصلوا قیاما فاذا رکع فارکعوا واذا رفع فارفعوا (بخاری‘ باب انما جعل الامام لیؤتم بہ‘ حدیث: 648)۔ ترجمہ: یقینا امام اس لئے بنایا جاتا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے‘ لہٰذا جب امام کھڑے ہوکر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہوکر پڑھو جب امام رکوع کرے تم رکوع کرو‘ جب امام سر اٹھائے تم سر اٹھاؤ۔ امام کی بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ طہارت‘ وضو اور غسل میں توجہ سے اہتمام کرے اور اوقات نماز کی مکمل رعایت کرتے ہوئے خشوع و خضوع کے ساتھ نماز ادا کرے‘ چنانچہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا الامام ضامن والمؤذن مؤتمن اللھم ارشد الائمۃ واغفر للمؤذنین۔ ترجمہ: امام ضامن و ذمہ دار ہے اور مؤذن امانت دار ہے‘ اے اللہ! ائمہ کو ہدایت عطا فرما اور مؤذنین کی بخشش فرما۔(ترمذی‘ باب ماجاء ان الامام ضامن‘ حدیث: 191) واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com