***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > حج وعمره کا بیان > مدینۂ طیبہ اور مسجد نبوی

Share |
سرخی : f 1317    مسجد نبوی شریف میں چالیس نمازیں
مقام : امریکہ,
نام : سہیل اختر
سوال:     حج کے موقع پر حجاج کرام کو مدینہ شریف میں حاضری کی سعادت حاصل ہوتی ہے جو حضرات پہلے قافلوں میں جاتے ہیں وہ حج سے پہلے حاضری کا شرف پاتے ہیں اور بعد میں جانے والے حجاج کو حج کے بعد مدینہ شریف جانے کا موقع نصیب ہوتا ہے، حج سے پہلے موقع ملے یا حج کے بعد، منتظمین اس بات کا لحاظ رکھتے ہیں کہ حجاج کرام مسجد نبوی میں چالیس نمازیں ادا کرسکیں، اس سلسلہ میں دریافت کرنا یہ ہے کہ خاص طور پر چالیس نمازیں پڑھنے کا اہتمام کیوں کیا جاتاہے؟
............................................................................
جواب:     مدینہ طیبہ میں سید الانبیاء والمرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ عالی جاہ میں حاضر ہونا ہر مؤمن کا عین مقصد ہوتا ہے اور جس مسجد کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خاص نسبت حاصل ہو اس میں زیادہ سے زیادہ نمازیں ادا کرنا عظیم سعادت ہے۔
مسجد نبوی شریف میں چالیس نمازیں ادا کرنے کا جو خصوصی اہتمام کیا جاتاہے اور ہر گروپ اور ہر قافلہ کے منتظمین بطور خاص انتظام کرتے ہیں، اس کا سبب وداعیہ یہ ہے کہ حضرت رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد نبوی شریف میں چالیس نمازیں ادا کرنے والے کے لئے دوزخ سے آزادی و رہائی، نفاق سے حفاظت و براء ت اور عذاب سے خلاصی و نجات کا اعلان فرمایاہے ‘ جیسا کہ مسند احمد اور مجمع الزوائد میں حدیث پاک ہے : عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہُ قَالَ مَنْ صَلَّی فِی مَسْجِدِی أَرْبَعِینَ صَلَاۃً لَا یَفُوتُہُ صَلَاۃٌ کُتِبَتْ لَہُ بَرَاءَۃٌ مِنْ النَّارِ وَنَجَاۃٌ مِنْ الْعَذَابِ وَبَرِئَ مِنْ النِّفَاقِ۔
ترجمہ :سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ نے ارشاد فرمایا : جو شخص میری مسجد میں چالیس نمازیں ادا کرے اور  اس سے کوئی نماز نہ چھوٹی ہوتو اس کے لئے دوزخ سے آزادی اور عذاب سے خلاصی لکھ دی گئی اور وہ نفاق سے محفوظ و بری ہوگیا۔
(مسند احمد ،مسند انس بن مالک رضی اللہ عنہ ،حدیث نمبر:12123، مجمع الزوائد ج 4، باب فیمن صلی بالمدینۃ اربعین صلوۃ، ص 8)
صاحب مجمع الزوائد امام علی بن ابوبکر بن سلیمان ہیثمی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث شریف کو نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں:قلت روی الترمذی بعضہ رواہ احمد والطبرانی فی الاوسط ورجالہ ثقات۔
ترجمہ :میں کہتا ہوں امام ترمذی نے اس حدیث کے بعض حصہ کو روایت کیا، امام احمد نے (اپنی مسند میں) اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کی روایت کی اور اس حدیث کو روایت کرنے والے حضرات معتبر و ثقہ ہیں ۔
و نیز امام طبرانی کی معجم اوسط ،باب المیم من اسمہ احمد میں الفاظ کے قدرے اختلاف کے ساتھ منقول  ہے: (حدیث نمبر:5602 )عن انس بن مالک قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من صلی فی مسجدی اربعین صلوٰۃ لا یفوتہ صلوۃ کتب اللہ لہ براۃ من النار و نجاۃ من العذاب ۔
ترجمہ :سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس نے میری مسجد میں چالیس نمازیں ادا کی اور اس سے کوئی نماز فوت نہیں ہوئی ،اللہ تعالیٰ اس کے لیے دوزخ سے براء ت اور عذاب سے نجات لکھ دیتا ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com
حیدرآباد دکن۔
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com