***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاملات > حلال و حرام کا بیان

Share |
سرخی : f 1318    گانا اور میوزک سننے کاحکم
مقام : کرناٹک ،انڈیا,
نام : احمد
سوال:    

اگر کو ئی وضو سے ہو تو کیا وہ گانا یا میوزک سن سکتا ہے؟


............................................................................
جواب:    

گانا سننا اور میوزک سننا ‘ ازروئے شریعت ممنوع اور گناہ ہے۔ احادیث شریفہ میں اُس کی ممانعت اور سخت وعید آئی ہے‘ گانے بجانے کی حرمت سے متعلق امام بیہقی کی شعب الایمان ج۴، ص۹۷۲، میں حدیث پاک منقول ہے ’’عن جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ ﷺ الغناء ینبت النفاق فی القلب کما ینبت الماء الزرع‘‘ ترجمہ:سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے حضرت رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: گانا بجانا دل میں نفاق کو اُگاتا ہے جس طرح پانی کھیتی کو اگاتا ہے۔ گانے بجانے والے کے کندھوں پر شیاطین رقص کرتے ہیں جیسا کہ تفسیرات احمدیہ ص400میں حدیث پاک ہے ’’وقال النبیﷺ ما من رجل یرفع صوتہ بالغناء الا بعث اللہ علیہ شیطانین احدہما علی ہذا المنکب والاخر علی ہذا المنکب ولا یزالان یضربان بارجلہما حتی یکون ہو الذی یسکت‘‘ ترجمہ:حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو کوئی شخص گانے کے ذریعہ اپنی آواز کو بلند کرے اللہ تعالی اس پر دو شیطانوں کو مسلط فرمادیتا ہے، ان میں سے ایک اس کاندھے پر اور دوسرا اس کاندھے پر ہوتا ہے اور دونوں مسلسل ناچتے رہتے ہیں یہاں تک کہ یہ شخص ہی خاموش ہوجائے۔ در مختار، ج۵، کتاب الحظر والإباحۃ، ص۵۴۲، میں ہے ’’ان الملاھی کلھا حرام‘‘ ترجمہ: تمام قسم کے لہو ولعب حرام ہیں۔ لہٰذا کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ گانا یا میوزک سنے خواہ وہ باوضو ہو یا بے وضو ہو، ہر حال میں اس سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد،انڈیا

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com