***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عقائد کا بیان > تقدیر پر ایمان لانے کا بی

Share |
سرخی : f 1320    اسلام میں واستو کا تصور
مقام : حیدرآباد ,india,
نام : شعیب نظیر
سوال:     السلام علیکم! کیا واستو شریعت میں جائز ہے؟ اللہ تعالیٰ آپ کواورآپ کی پوری ٹیم کو جزائے خیر دے؟

............................................................................
جواب:     اسلام میں بدشگونی و تفاؤل شرعاً جائز نہیں ‘ صحیح بخار ی شریف ج ۲ کتاب الطب باب الفال میں حدیث پاک ہے: عن ابی ھریرۃ قال قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم لا طیرۃ و خیرھا الفال قال وماالفال یا رسول اللہ قال الکلمۃ الصالحۃ یسمعھا احدکم۔
ترجمہ: سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بدشگونی کوئی چیز نہیں‘ بہترین فال‘ نیک فال ہے‘ عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: نیک فال کیا ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اچھی بات جس کو تم میں سے کوئی سنتا ہے۔
واستو کے بارے میں یہ نظریہ رکھنا کہ اگر اس کے مطابق گھر کی تعمیر نہ کی جائے تو نقصان و ہلاکت کا سامنا ہوگا‘ مصیبتیں آئیں گی‘ یہ غیر اسلامی تصور ہے‘ نقصان یا فائدہ پہنچانے والا اللہ تعالیٰ ہے‘ خیر عطا کرنے والا‘ شر سے آزمانے والاوہی ہے‘ آسودگی و تنگ حالی اسی کے ارادہ واختیارسے وابستہ ہے‘ واستو کی کوئی حقیقت نہیں‘ مصیبتوں کے آنے یانہ آنے میں اس کی کوئی تاثیر نہیں‘ گھر کے نقشہ اور تعمیر کے متعلق انجینئر سے مشورہ لیا جاسکتا ہے‘ ہوا کی آمد و رفت‘ دھوپ کے رخ اور دیگر سہولتوں کے پیش نظر انجینئر جو مشورہ دے اگر اتفاق سے واستو اس کے مطابق ہو تو اس طریقہ کے موافق گھر کی تعمیر کرنا شرعاً ممنوع نہیں ہے۔  
واللہ اعلم بالصواب –
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com
حیدرآباد دکن
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com