***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاملات > خرید و فروخت کا بیان

Share |
سرخی : f 1322    تاجر(Business man) کے اوصاف
مقام : کوکٹ پلی،انڈیا,
نام : شاہ
سوال:     میں تاجرہوں ہول سیل دام پر اناج فروخت کرتا ہو ں ، لیکن اب تک کوئی خاص نفع حاصل نہیں ہورہا ہے بلکہ کاروبارنقصان میں چل رہا ہے ایک صاحب نے مجھ سے کہا کہ آپ اسلامی طریقے کے مطابق تجارت کیجئے ، آپ کو فائدہ ہوگا ، میں جاننا چاہتا ہوں کہ اسلام میں تجارت کرنے کا کیا طریقہ ہے ؟ مسلمان ہونے کی حیثیت سے مجھے تجارت کس طرح کرنا چاہئے ؟
............................................................................
جواب:     حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تجارت کے جو آداب بیان فرمائے ہیں منجملہ ان کے یہ ہیں
(1)تاجر کو صبح اولین ساعتوںمیں اپنا کام شروع کرنا چاہئے ، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے صبح کے وقت میں برکت کی دعافرمائی ہے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم دن کے ابتدائی حصہ میں تجارت شروع کیا کرتے ،جامع ترمذی شریف ج1ص230میں حدیث پاک ہے  عن صخرالغامدی قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  اللھم بارک لامتی فی بکورھاقال وکان اذا بعث سریۃ اوجیشاً بعثھم اول النھاروکان صخررجلاً تاجراًوکان اذا بعث تجارہ بعثھم اول النھار فاثری وکثرمالہ ،
ترجمہ:سید نا صخرغامدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے دعافرمائی اے اللہ میری امت کیلئے سویرے کے وقت میں برکت عطافرما، حضرت صخررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب چھوٹادستہ یا بڑالشکر روانہ فرماتے تودن کے ابتدائی وقت روانہ فرماتے راوی کہتے ہیں حضرت صخر رضی اللہ عنہ تاجرتھے جب وہ اپنے آدمیوں کو تجارت کیلئے روانہ کرتے تو دن کے ابتدائی حصہ میں روانہ کرتے تھے جس کی وجہ وہ صاحبِ ثروت ہوئے اور انکے پاس مال کی کثرت وفراوانی ہوگئی ۔
مذکورہ بالاحدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ دن کے ابتدائی وقت تجارت کا آغاز کرنے سے تجارت میں برکت ہوتی ہے ،  
(2)تاجر کو تجارت میں بطور خاص دھوکہ دہی سے پرہیزکرناچاہئیے ،جامع ترمذی شریف ج۱ص245میںحدیث شریف ہے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا  من غش فلیس منا
ترجمہ :جس نے دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں ۔دھوکہ کے کاروبارسے تاجر کو اگروقتیہ فائد ہ ہوبھی جائے تواس میں کوئی خیروبرکت نہیں رہتی اس سے متعلق لوگوں میں یہ رائے قائم ہوجاتی ہے کہ فلان تاجردھوکہ دہی کرتا ہے اس طرح بتدریج لوگ اس سے معاملہ کرنے سے گریز کرنے لگتے ہیں نتیجۃً اس کو نقصان وخسارہ ہوتا ہے ۔
تجارت میں جھوٹ سے بچنے کی یہاں تک تاکید کی گئی کہ اگر کسی چیز کی قیمت سوروپئے ہے اور باربرداری ( Transport)وغیرہ کا خرچ دس روپئے ہوتو فقہاء کرام نے اس سے متعلق فرمایا کہ وہ یہ نہ کہے میںنے یہ چیز ایک سودس (110)میں خریدی بلکہ اس طرح کہے مجھے یہ چیز ایک سودس میں پڑی بصورت دیگر وہ جھوٹ بولنے والا قرار پاے گا،جیساکہ ہدایہ شریف ج3ص71میں ہے ، ویقول قام علیّ بکذاولایقول اشتریتہ بکذا کیلایکون کاذبا۔  
(3)ناپ تول برابر برابر رکھنا چاہئیے، ارشاد خداوندی ہے ، ’’واقیمواالوزن بالقسط ولاتخسرواالمیزان ‘‘  (سورہ رحمن ۔9)ترجمہ :اورانصاف کے ساتھ وزن ٹھیک رکھواور تول میں کمی نہ کرو، ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لئے قرآن کریم میں سخت وعیدآئی ہے ، ویل للمطففین ، ترجمہ : ہلاکت وبربادی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کیلئے (سورۃمطففین ۔1)
(4)بلکہ جھکتا تولنے کو مستحب قراردیاگیا ہے ،جامع ترمذی شریف ج 1ص244میںحضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مقدس موجود ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تول نے والے صاحب سے ارشاد فرمایا ’’ زن وارجح‘‘  ترجمہ :جھکتا تولا کرو۔
مذکورہ بالاآیات قرآنیه اور احادیث مبارکہ بطور نمونہ ذکر کی گئی ہیں ورنہ اس باب میں کثر ت سے احادیث شریفہ واردہیں جن سے واضح ہوتا ہیکہ تاجر  صداقت ودیانت اور امانت داری کے ساتھ کاروبارکرے، دن کے ابتدائی وقت کا روبارشروع کرے ،دھوکہ دہی اور کذب بیانی سے اجتناب کرے، ناپ تول میں کمی نہ کرے، جو شخص اسلامی اصول تجارت پر عمل کرتے ہوئے تجارت کرتا ہے وہ کامیاب تاجر کہلاتاہے ، اسکی تجارت نفع بخش ہوتی ہے اسے برکت حاصل ہوتی ہے اور آخرت میں بھی وہ بلند درجات اور اعلی مقامات پر فائزہوتا ہے ۔جامع ترمذی شریف ج1ص229میں حدیث پاک موجود ہے ’’ عن ابی سعیدعن النبی صلی اللہ علیہ وسلمقال التاجرالصدوق الامین مع النبیین والصدیقین والشہداء ‘‘ ترجمہ:ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا صداقت شعار ودیانت دار تاجر انبیاء کرام، صدیقین اور شہداء کے زیر سایہ خصوصی معیت میں ہے ۔  
واللہ اعلم بالصواب
سیدضیاءالدین عفی عنہ
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔
حیدرآباد دکن۔
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com