***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاملات > حلال و حرام کا بیان

Share |
سرخی : f 1323    Tattoos کے بارے میں ایک سوال
مقام : پاکستان,
نام : سید محمد عزیر جاویدعطاری قادری
سوال:     السلام علیکم مفتی صاحب! برائے مہربانی اس سوال کا جواب دیجئے‘ اسلام اُن Tattoos کے بارے میں کیا کہتا ہے جن کو بنانے کے لئے رنگوں کو جسم میں نہیں ڈالا جاتا‘ بلکہ وہ جو برش کے ذریعہ بنائے جاتے ہیں؟ عورتوں پر تو شائد حرام ہوگا کیوں کہ اس سے ان کے جسم کی نمائش ہوتی ہے‘ لیکن کیا مردوں کے لئے بھی حرام ہے؟ ۔
حضور پہلے تو مجھے آپ سے کچھ پوچھنا ہے اور کہنا ہے‘ پہلے کیا یہ عورتوں پر حرام ہے؟ کیا دونوں پر ؟ یا دونوں پر جائز ہے؟ اور میں جو پوچھنا اور کہنا چاہتا تھا کہ کیا یہ مہندی لگانے جیسا نہیں ہے؟ یا پھر وہ Tattoos جو جلد پر چپک نہیں جاتے جس کی وجہ سے وضو کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا تب کیا اس طرح کے Tattoos لگانا جائز ہے یا نہیں؟ کیونکہ میں نہیں سمجھتا کہ وہ اسٹیکرس (Stickers) جو Bubble Gums میں ہوتے ہیں وہ جلد پر ایک طرح کی پرت قائم کرتے ہیں‘ اسی طرح کیا یہ Tattoos دوسرے Stickers اور مہندی کے حکم میں ہیں یا نہیں؟
............................................................................
جواب:     وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہٗ!
جس Tattoo میں رنگ جسم میں ڈالا جاتا ہے وہ مرد و عورت دونوں کے لئے حرام ہے جیساکہ صحیح بخاری شریف ج 2‘ ص 805 میں حدیث پاک ہے :
حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ أَبِى جُحَيْفَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ لَعَنَ النَّبِىُّ صلى الله عليه وسلم الْوَاشِمَةَ ، وَالْمُسْتَوْشِمَةَ ۔
ترجمہ: حضرت عون بن ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گودنے والی اور گودوانے والی پر لعنت فرمائی۔(صحیح بخاری شریف ج 2‘ ص 805 ، حدیث نمبر:5347 )
جو Tattoo پانی کے جلد تک پہنچنے میں رکاوٹ بنتا ہے وہ مرد و خواتین دونوں کے لئے درست نہیں۔
اگر Tattoo اس نوعیت کا ہو جو پانی کو جلد تک پہنچنے سے نہیں روکتا تو ایسا Tattoo لگانے میں وشم (گودنے) سے مشابہت ہے‘ لہٰذا یہ بھی مرد و عورت کے لئے کراہت سے خالی نہیں معلوم ہوتا‘ لہٰذا مسلمان خواتین و حضرات کسی قسم کا Tattoo استعمال نہ کریں۔
واللہ اعلم بالصواب
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ،
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com
حیدرآباد دکن۔
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com