***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 133    قربانی کے لئے خصی بکرا، افضل وبہتر
مقام : عیدی بازار,india,
نام : محمد شمس الضحی
سوال:    

میں نے عیدالاضحی کے دن خصی بکرے کی قربانی کی لیکن قربانی کے دن گذرنے کے بعد خصی جانوروں سے متعلق بعض لوگوں نے کہا کہ خصی جانور عیبدار ہوتے ہیں اور قربانی کیلئے تو ایسا جانور خریدنا چاہےئے جس میں عیب نہ ہو، اس وقت سے میں متفکر ہوں کہ میری قربانی صحیح ہوئی یا نہیں؟ میری رہنمائی فرمائیں کہ کیا واقعۃً خصی جانور کی قربانی درست نہیں ہوتی؟ اگر ایسا ہی ہے تو اب مجھے کیا کرنا چاہئے؟


............................................................................
جواب:    

یقینا قربانی کے لئے ایسے جانور کا انتخاب کرنا چاہئیے جس میں عیب و نقص نہ ہو،جانور صحیح و سالم اور فربہ ہو جہاں تک خصی بکرے کی قربانی کا سوال ہے تو چونکہ جانوروں کی خصی کرنا عیب نہیں ہے لہٰذا خصی جانور کی قربانی جائز و درست ہے بلکہ قربانی کے لئے خصی جانور افضل ہے، سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے خصی بکروں کی قربانی کی، جیسا کہ سنن ابن ماجہ شریف ابواب الاضاحی باب اضاحی رسول اللہ صلی علیہ وسلم ص 225/226 میں حدیث پاک ہے(حدیث نمبر:3113) عن عائشة و عن ابی هريرة ان رسول الله صلی الله عليه وسلم کان اذا اراد ان يضحی اشتری کبشين عظيمين سمينين اقرنين املحين موجوأين فذبح احدهما عن امته لمن شهد لله بالتوحيد و شهد له بالبلاغ و ذبح الاٰخر عن محمد و عن اٰل محمد صلی الله عليه وسلم۔ ترجمہ: سیدتنا عائشہ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب قربانی کرنے کا ارادہ فرماتے تو دو بڑے، فربہ، سینگ والے، چتکبرے، خصی مینڈھے خریدتے اور ایک اپنی امت کی جانب سے ان لوگوں کے لئے ذبح فرماتے جنہوں نے اللہ کے لئے توحید کی گواہی دی اور آپ کے لئے تبلیغ رسالت کی گواہی دی اور دوسرا خود اپنی جانب سے اور اپنی اٰل کی جانب سے ذبح فرماتے۔ فتاوی عالمگیری ج5 ص 499میں ہے، والخصی افضل من الفحل لانه اطيب لحما کذا فی المحيط۔تبین الحقائق ج 6 کتاب الاضحیۃ ص 479 میں ہے :وعن ابی حنيفة هو اولی لان لحمه اطيب۔ ترجمہ: امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا خصی جانور (کی قربانی) افضل و اولی ہے اس لئے کہ اس کا گوشت عمدہ و لذیذ ہوتا ہے۔ نصوص مذکورہ سے معلوم ہوتا ہے کہ قربانی کے لئے خصی جانور ناقص و عیب دار نہیں ہے اور اس کی قربانی جائز و صحیح اور افضل و بہتر ہے، لہٰذا آپ نے جو خصی بکرے کی قربانی کی ہے اس سلسلہ میں مطمئن رہیں، آپ کی قربانی بالکل درست و صحیح ہوئی۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ،  شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com