***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > نماز کا بیان > نماز خسوف (چاند گہن ) کے

Share |
سرخی : f 1341    سورج گہن اورچاند گہن قدرت الٰہی کی نشانیاں
مقام : حیدرآباد ، انڈیا,
نام : صادق علی
سوال:    

میرے ذہن میں یہ سوال پیداہوتا ہے کہ سورج گہن ،چاند گہن کے واقعات رونما ہونے میں اللہ تعالی کی کیا حکمت ہے ؟ کیا اس کے بارے میں حدیث پاک میں کوئی ثبوت ملتا ہے؟ اس سوال کاجواب عنایت فرمائیں تو ممنون رہوں گا۔


............................................................................
جواب:    

زمین وآسمان اور ساری کائنات کا پیدا کر نے والا اللہ تعالی ہے،شمس وقمر اور دیگر تمام سیارگان نیزتمام نظامہائے عالم علوی وسفلی اسی کی قدرت بے مثال پر موقوف اور قوت لازوال پر منحصر ہے،ہرسیارہ اپنے محور میں گھومتاہے کوئی اپنے محور سے تجاوزنہیں کرتا،اور نہ دوسرے کے برج میں داخل ہوتاہے چہ جائے کہ ایک سیارہ دوسرے سے ٹکرائے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے : وَالشَّمْسُ تَجْرِیْ لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا ذَلِکَ تَقْدِيْرُ الْعَزِيْزِ الْعَلِيْمِ وَالْقَمَرَ قَدَّرْنَاهُ مَنَازِلَ حَتّٰی عَادَ کَالْعُرْجُونِ الْقَدِيْمِ لَا الشَّمْسُ يَنبَغِیْ لَهَا أَن تُدْرِکَ الْقَمَرَ وَلَا اللَّيْْلُ سَابِقُ النَّهَارِ وَکُلٌّ فِیْ فَلَکٍ يَسْبَحُونَ۔ ترجمہ:اور سورج اپنی منزل کی طرف چلتا رہتاہے ،یہ غالب اور جاننے والے کا مقرر کردہ نظام ہے اور ہم نے چاند کے لئے منزلیں مقررکی ہیں یہاں تک کہ وہ کھجور کی بوسیدہ شاخ کی طرح ہوجاتاہے ،نہ آفتاب کی یہ مجال ہے کہ چاند کو پاسکے اور نہ رات کوطاقت حاصل ہے کہ وہ دن سے آگے ہوجائے‘ اور سب کے سب سیارے اپنے اپنے مدار میں محو گردش ہیں ۔(سورۃ یٰس۔38تا40﴾ سورج گہن کے واقعات رونماہونے میں قادرمطلق کی کمال قدرت کی روشن دلیل اور عظیم نشانی ہے جیساکہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ چاند وسورج اللہ تعالی کی نشانیوں میں سے دونشانیاں ہیں ،اس سلسلہ میں ہمیں مختلف روایتیں ملتی ہیں جیسا کہ صحیح بخاری شریف میں ہے: عَنْ أَبِی مُوسَی قَالَ خسَفَتْ الشَّمْسُ ۔ ۔ ۔ وَقَالَ هَذِهِ الْآيَاتُ الَّتِی يُرْسِلُ اللَّهُ لَا تَکُونُ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ وَلَکِنْ يُخَوِّفُ اللَّهُ بِهِ عِبَادَهُ فَإِذَا رَأَيْتُمْ شَيْئًا مِنْ ذَلِکَ فَافْزَعُوا إِلَی ذِکْرِهِ وَدُعَائِهِ وَاسْتِغْفَارِهِ- ترجمہ:سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا جب سورج گہن ہوا ۔ ۔ ۔ توحضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ کسوف شمس وقمر قدرت الٰہی کی نشانیاں ہیں انہیں اللہ تعالی ظاہر فرماتا ہے ،یہ واقعات کسی کی موت اور حیات کی وجہ سے نہیں ہوتے لیکن اللہ تعالی ان کے ذریعہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے تو جب تم ان میں سے کوئی نشانی دیکھو تو اللہ تعالی کے ذکر کی طرف متوجہ ہوجاؤ اور اس کویاد کرو، اس سے دعا مانگو،اور اپنے گناہوں پر بخشش ومغفرت طلب کرو۔ (صحیح بخاری شریف، باب الذکر فی الکسوف، حدیث نمبر1059) ان واقعات کے وقوع پذیرہونے میں حکمت یہ ہے کہ جسم انسانی کے ایک ایک خلیہ پر اور خشک و تر کے ہرہر خطہ میں تحقیق وریسرچ کرنے والا انسان غور کرلے کہ جس قدرت والی ذات نے سیارگان فلک چاند وسورج کو ایک دوسرے کے محاذات میں کردیا ہے ،ایک دن آئے گا کہ وہی قادر مطلق ان چمکتے دمکتے سیاروں کو بے نور کردے گا ،ان پہاڑوں کو جواستقامت وثابت قدمی میں ضرب المثل ہیں ریزہ ریزہ کرکے ذرات بے مقدار میں تبدیل کردے گا۔ دوسری حکمت یہ ہے کہ اللہ تعالی سورج گہن اور چاند گہن کے ذریعہ بندوں کوآگاہ ومتنبہ فرمارہا ہے ، ان واقعات کی حیثیت ایک قدرتی تنبیہ کی ہے کہ دنیا کی محبت رکھنے والے اوردین سے غفلت کرنے والے اپنے دلوں میں خوف وخشیت پیداکریں اور غفلت ومعصیت سے بازآجائیں ،زندگی کو قدرتی نظام , والہی قانون کے مطابق گزاریں ، اسی قادر مطلق کی اطاعت وفرمانبرداری اور اس کے رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع و پیروی کی طرف لوٹ آئیں ۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com