***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > نماز کا بیان > مسافر کی نماز کے مسائل

Share |
سرخی : f 1343    ہفتہ میں ایک مرتبہ مقام ملازمت سے وطن اصلی سفرکرنے پر قصر کا حکم
مقام : پاکستان,
نام : سید محمد عزیر جاوید عطاری قادری رضوی ضیائی اشرفی
سوال:    

السلام علیکم مفتی صاحب! ایک شخص کی نوکری کراچی میں ہے‘ لیکن اس کا مستقل گھر حیدرآباد میں ہے‘ وہ ہر ہفتہ کے آخر دن حیدرآباد واپس ہوتا ہے تو کراچی میں اس کی سکونت 15 دن سے بھی کم ہوتی ہے‘ لیکن کمپنی اس کو ہفتہ کے آخری دنوں (ہفتہ اور اتوار) کو بھی بلاسکتی ہے‘ لیکن گذشتہ سال جاب شروع کرنے کے وقت سے اس کی سکونت 15 دن سے کم ہے تو نمازِ قصر کے بارے میں بتائیں۔ جزاک اللہ۔ فی امام اللہ‘ السلام علیکم


............................................................................
جواب:    

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہٗ! اگر کوئی شخص اپنے وطن کے سوا کسی دوسرے شہر میں ملازمت کرتا ہو، اپنے وطن کو ہفتہ میں ایک بار آتا ہو اور ان دو شہروں کے درمیان 97 کیلومیٹر کا فاصلہ ہو تو ملازمت کے شہر میں نماز قصر کرنا چاہئے‘ کیونکہ انہوں نے اپنے وطن سے نکلتے وقت‘ ملازمت کے شہر میں پندرہ دن سے کم قیام کی نیت کی ہے اور ان کا وطن حیدرآباد ‘ وطن اصلی ہونے کی وجہ سے وہاں نماز پوری ادا کرنا ضروری ہے۔ جس شہر میں ان کی ولادت ہوئی اور ان کے اہل خانہ وہاں رہتے ہوں وہ ان کا وطن اصلی ہے۔ اور جہاں وہ ملازمت کرتے ہیں اگر اس کو اپنا وطن اقامت بنایا ہو تو دونوں جگہ نماز مکمل پڑھنا لازم ہے اور جب تک وطن اصلی سے اہل خانہ کے ساتھ کسی اور مقام پر منتقل نہ ہوں وہ وطن اصلی ہی رہتا ہے۔ جیسا کہ فتاویٰ عالمگیری میں ہے: ویبطل الوطن الاصلی بالوطن الاصلی اذا انتقل عن الاول باھلہ و اما اذالم ینتقل باھلہ ولکنہ استحدث اھلا ببلدۃ اخری فلا یبطل وطنہ الاول و یتم فیھا۔ (عالمگیری‘ صلاۃ المسافر‘ ج 1) واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com