***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > طہارت کا بیان > پانی کے مسائل

Share |
سرخی : f 1344    دُم کٹاہوا چوہا کنویں میں گرجائے تو پانی کاحکم
مقام : گنٹور,
نام : محمد کامل
سوال:    

ہمارے گھر میں باؤلی ہے ، جس پر جالی ڈھکی رہتی ہے ، میں ایک مرتبہ کٹنگ پلیر سے چوہے کی دم پکڑ کر باہر پھینکنے کے لئے لے جارہا تھا کہ دم کٹ گئی اور چوہا باؤلی میں گرگیا، پڑوسیوں کے لہنے پر ہم پوری باؤلی خالی کرڈالی ، میں نے سنا تھا کہ چوہا باؤلی میں گر جائے تو چالیس پچاس ڈولی نکالنے سے باؤلی کا پانی استعمال کے قابل ہوجاتاہے ؟ صحیح مسئلہ بیان فرمائیں تو بڑی مہربانی ہوگی۔


............................................................................
جواب:    

کنواں اگر دہ دردہ سے کم ہو اور اس میں چوہا گر کر مرجائے یا مرا ہوا گرجائے تو کنواں ناپاک ہوجائے گا، ایسی صورت میں کنواں پاک کرنے کا شرعی طریقہ یہ ہیکہ چوہا نکالنے کے بعد بیس تا تیس ڈول پانی خارج کیا جائے ، اس کے برخلاف اگر چوہے کی دُم کٹی ہوئی ہو جیساکہ آپ نے سوال میں ذکر کیا ہے تو کنواں ناپاک ہونے کے لئے چوہے کا مرنا،ضروری نہیں ، محض دُم کٹاہوا چوہا گرجائے تو کنواں ناپاک ہوجائے گا ، اس لئے کہ کٹے ہوئے حصہ سے سیّال نجاست کا نکلنا یقینی ہے ، ایسی صورت میں کنواں پاک کرنے کے لئے حکم یہ ہیکہ سارا کنواں خالی کیا جائے ، اگر پا نی مسلسل آتا رہے تو دوسو تا تین سو ڈول نکالنا‘ کافی ہے ۔ علامہ اکمل الدین محمود بن محمد بابرتی (متوفی 786ھ ) العنایۃ شرح الھدایۃ ، کتاب الطھارات ، فصل فی البئر ، میں لکھا ہے : ۔ ۔ ۔ ولھذا قال محمد فی ذنب الفارۃ وقعت فی البئر ینزح جمیع الماء لات موضع القطع لاینفک عن نجاسۃ مائعۃ بخلاف الفارۃ الصحیحیۃ الجسد ۔ واللہ اعلم بالصواب ۔ سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com