***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاشرت > نکاح کا بیان > خلع کے مسائل

Share |
سرخی : f 1345    رخصتی سے پہلے خلع
مقام : سکندرآباد,
نام : محمد عبدالمنان
سوال:    

ایک لڑکی کا نکاح ہوکر دو سال کا عرصہ ہوچکا ہے‘ اب تک رخصتی نہیں ہوئی ‘ اب لڑکی خلع لینا چاہ رہی ہے‘ کیا اس وقت عدت کے دن گزارنا ضروری ہے اور یہ بھی بتلائیں کہ عدت کتنی ہوگی؟


............................................................................
جواب:    

جس لڑکی کا نکاح ہوچکا اوررخصتی نہیں ہوئی ‘ اس کے اور شوہر کے درمیان خلوت صحیحہ اور یکجائی نہ ہوئی ہو‘ ایسی صورت میں لڑکی اپنے شوہر سے خلع کا مطالبہ کرے اور شوہر خلع دیدے تو لڑکی کے لئے شرعاً عدت کا حکم نہیں ہے‘ وہ خلع کے فوراً بعد کسی اور سے نکاح کرسکتی ہے۔ ارشاد الٰہی ہے: یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا إِذَا نَکَحْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوہُنَّ مِن قَبْلِ أَن تَمَسُّوہُنَّ فَمَا لَکُمْ عَلَیْہِنَّ مِنْ عِدَّۃٍ تَعْتَدُّونَہَا۔ ترجمہ: اے ایمان والو! جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرو پھر انہیں طلاق دے دو اس سے پہلے کہ تم انہیں مَس (خلوتِ صحیحہ) کرو تو تمہارے لئے ان پر کوئی عدّت نہیں ہے کہ تم اسے شمار کرو۔ (سورۃ الاحزاب۔49) فتاویٰ عالمگیری ج 1‘ کتاب الطلاق‘ عدت کے بیان میں ہے: اربع من النساء لا عدۃ علیھن المطلقۃ قبل الدخول ....۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com