***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاشرت > نکاح کا بیان > مہر کے مسائل

Share |
سرخی : f 1346    بیوی کے انتقال کے بعد مہر کی ادائیگی کا حکم
مقام : جدہ,
نام : احمد یافعی
سوال:     میری بیوی کا انتقال ہوگیا ہے‘ بعد میں مہر ان کی والدہ سے پوچھ کر مہر مسجد میں دید یا‘ پہلے تو نہیں لئے‘ کیا مہر ادا ہوگیا‘مہربانی فرماکر جواب عنایت فرمائیں۔

............................................................................
جواب:     اگر مہر مؤجل تھا اور ادائیگی کی کوئی مدت مقرر کی گئی تھی تو اس مدت تک ادا کرنا ضروری ہے اور اگر کوئی مدت مقرر نہیں کی گئی تو اس کی ادائیگی کی میعاد طلاق یا موت کا وقت ہوتی ہے۔ اب جبکہ آپ کی بیوی کا انتقال ہوچکا ہے تو مہر کی یہ رقم مرحومہ کی جائیداد اور دیگر رقومات کے ساتھ مال متروکہ میں شمار ہوگی۔
شریعت مطہرہ میں بیان کردہ اصول کے مطابق مہر کی رقم اور باقی مال متروکہ (بشمول شوہر) ورثہ کے درمیان حسب حصص شرعی تقسیم کیا جائے۔ ورثہ کی تفصیل معلوم ہو تو تقسیم کا طریقہ بتایا جاسکتا ہے۔
واللہ اعلم بالصواب –
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com
حیدرآباد دکن
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com