***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاشرت > نکاح کا بیان

Share |
سرخی : f 1351    انٹرنٹ اورفون کے ذریعہ نکاح
مقام : UK,
نام : شہباز خان
سوال:     السلام علیکم! میں شریعت کی روشنی میں جاننا چاہتا ہوں کہ انٹرنٹ اورفون کے ذریعہ نکاح کرنے کا طریقہ درست ہے یا نہیں؟
............................................................................
جواب:     فقہاء کرام نے قرآن کریم اور حدیث شریف کی روشنی میں نکاح کے لئے یہ شرط رکھی ہے کہ ایجاب اور قبول ایک ہی مجلس میں ہو لہذا فون اور انٹرنٹ کے ذریعہ عاقد اور عاقدہ براہ راست نکاح کرنے کی صورت میں نکاح منعقد نہیں ہوتا، البتہ غائب شخص اپنی جانب سے کسی شخص کوانٹرنٹ یا فون کے ذریعہ وکیل بنادے اور وہ اپنے عاقد یا عاقدہ کی جانب سے وکالۃ ایجاب یا قبول کرے تو ایسی صورت میں نکاح درست ہوگا کیونکہ وکیل مجلس عقد میں موجود رہ کر ایجاب وقبول انجام دے تو دراصل موکل کا ہی ایجاب وقبول قرار پاتا ہے۔
جیساکہ فتاوی عالمگیری ج1، ص269،میں ہے:(ومنھا) ان یکون الایجاب والقبول فی مجلس واحد۔ اور فتاوی عالمگیری ج 1، کتاب النکاح، الباب السادس فی الوکالۃ بالنکاح وغیرھا میں ہے :یصح التوکیل بالنکاح۔
واللہ اعلم بالصواب –
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ،
ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔
حیدرآباد دکن۔
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com