***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > طہارت کا بیان > وضو کے مسائل

Share |
سرخی : f 1353    موسم سرما میں جلد خشک ہوجائے تو وضو کا حکم
مقام : مستعد پورہ ،انڈیا,
نام : محمد اعجاز
سوال:     ان دنوں سرما کی وجہ سے جلد خشک ہوجاتی ہے اور وضو کیلئے جب پانی ڈالتے ہیں تو تھوڑا سا حصہ خشک معلوم ہوتا ہے ۔اور وہ انتہائی کم بال کے برابر ہوتا ہے ۔ جلدی میں بعض لوگ اس کی طرف توجہ نہیں دیتے ایسی صورت میں کیا وہ موسم سرما کی حد تک معاف ہے ۔کیا انتہائی باریک مقدار ہونے کی وجہ سے نذر انداز کیا جاسکتاہے ۔

............................................................................
جواب:     وضو میں اعضاء کو دھونا فرض ہے خواہ موسم سرما یا گرما ‘ان میں اگر سوئی کے برابر جگہ خشک رہ جائے تو وضو صحیح نہیں ہوگا ۔ یہاں تک کہ اس خشک جگہ کو تر کرلے اس لئے وضو اور غسل میں رگڑنا سنت قرار دیا گیا کہ کہیں کوئی حصہ خشک رہ جاتا ہے سنت سے فرض کی تکمیل ہوجائے گی ۔ علاوہ ازیں وضو کرنے والے کو خاص طور پر موسم سرما میں پانی بہانے پر اکتفا نہیں کرنا چاہئے ۔ بلکہ اعضاء وضو کو پانی سے اسطرح رگڑنا چاہئے جیسے تیل سے جسم کو رگڑا جاتا ہے بدائع الصنائع ج 1 ص 66 میں ہے ؛
’’ینبغی للمتوضی فی الشتاء ان یبل اعضاء ہ بالماء شبہ الدھن ثم یسیل الماء علیھا لان الماء یتجافی عن الاعضاء فی الشتاء  
مراقی الفلاح ‘‘۔ ص 13 میں ہے ’’ حتی لو بقی مقدار مغرز ابرۃ ‘ لم یصبہ الماء من المفروض غسلہ لم یصح الوضو‘‘  
واللہ اعلم بالصواب–
سیدضیاءالدین عفی عنہ،
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر۔ www.ziaislamic.com
حیدرآباد دکن
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com