***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > طہارت کا بیان

Share |
سرخی : f 1354    کیا وضومیں پائتابے پر مسح کرسکتے ہیں؟
مقام : جدہ,
نام : رئیس صوفی،چشتی ابوالعلائی،
سوال:    

کیا وضو کرکے پائتابے پہن لےنے کے بعد نماز کا وقت آجائے تو وضو کرکے صرف پائتابے پر مسح کرلینے سے وضو ہو جائے گا یا پھر پورے پیر دہونا پڑےگا؟ اگر نہیں تو کتنی نمازیں مسح کر کے پڑہ سکتے ہیں؟


............................................................................
جواب:    

وضو میں دونوں پیروں کو ٹخنوں تک دھونا فرض ہے لیکن شریعت اسلامیہ نے موزے پہننے کی صورت میں یہ رعایت رکھی ہے کہ جب کوئی شخص مکمل وضو کر کے موزے پہن لے تو وقت حدث سے مقیم کےلۓ ایک دن ایک رات اور مسافر کے لۓ تین دن تین رات وضو کے وقت پیر دھونے کے بجاۓ موزے پر مسح کرلینا کافی ہے،جیسا کہ فتاوی عالمگیری ج1ص31 میں ہے :وَهِيَ لِلْمُقِيمِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ وَلِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهَا .هَكَذَا فِي الْمُحِيط- لیکن یہ بات اچھی طرح ملحوظ رکھنی چاہیۓ کہ موزے سے مراد کیا ہے! فقہاۓ کرام نے احادیث شریفہ کی روشنی میں فرمایا ھیکہ .1موزے ایسے ہوں جس میں پیر کے ٹخنے چھپ جائیں لیکن شرط یہ ھیکہ وہ بغیر باندھے پیر پر جمے رہیں- .2خواہ وہ چمڑے کے ہوں یا کسی ایسی چیز کے جو دبیز و موٹی ہواور اس میں پانی سرایت نہ کرے .3اور ایسے ہوں کہ آدمی اس کو پہن کر بلاتکلف عادت کے موافق چل پھر سکے- فتاوی عالمگیری،ج1،کتاب الطھارۃ،ص32میں ہے(مِنْهَا ) أَنْ يَكُونَ الْخُفُّ مِمَّا يُمْكِنُ قَطْعُ السَّفَرِ بِهِ وَتَتَابُعُ الْمَشْيِ عَلَيْهِ وَيَسْتُرُ الْكَعْبَيْن- عام طور پر جو ‎پائتابے پہنے جاتے ہیں وہ اس طرح ہوتے ہیں کہ پانی اس میں سرایت کر جاتا ہے لہذا وہ موزوں کے حکم میں داخل نہیں اسی لیۓ اس کو پہننے کی صورت میں ان پر مسح کرنا درست نہیں بلکہ انہیں اتارکر پیروں کو دھونا ضروری ہے ورنہ وضو ہی پورا نہیں ہوگا- واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com