***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > نماز کا بیان > غسل ،تجہیز وتکفین اور تدف

Share |
سرخی : f 1356    مردہ نومولود کے غسل کا حکم
مقام : پربھنی،انڈیا,
نام : محمد علی
سوال:    

ہمارے خاندان میں چند دن پہلے ایک خاتون کو مرا ہوا لڑکا تولد ہوا، ایک طرف لڑکے کا غم تھا تو دوسری طرف لڑکے کو غسل دینے سے متعلق گفتگو ہوئی، بعض لوگوں کا خیال تھا کہ لڑکے کو غسل دے کر نماز جنازہ پڑھنا چاہئے اور بعضوں نے کہا کہ غسل نہیں دینا چاہئے۔ براہ مہربانی اس مسئلہ میں شرعی رہنمائی فرمائیں۔


............................................................................
جواب:    

اگر نومولود بے جان پیدا ہو لیکن اعضاء مکمل بنے ہوئے ہوں تو اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی جائے گی البتہ شرف آدمیت و تقدس انسانی کی وجہ سے غسل دیا جائے گا‘ اگر نومولود تام الخلقۃ نہ ہو ‘اعضاء کی تخلیق مکمل نہ ہوئی ہو تو جس طرح نماز نہیں پڑھی جائے گی غسل بھی نہیں دیا جائے گا۔ جیسا کہ البحرالرائق ج 1،کتاب الجنائز ، الصلوٰۃ علی المیت فی المسجد،ص 330میں ہے: اذالم یستھل لایصلی علیہ ۔ ۔ ۔ اذا وضع المولود سقطا تام الخلقۃ قال ابویوسف یغسل اکراما لبنی آدم ۔ ۔ ۔ والصحیح قول ابی یوسف واذا لم یکن تام الخلقۃ لا یغسل اجماعا ۔ واللہ اعلم بالصواب سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com