***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاملات > مضاربت کا بیان

Share |
سرخی : f 1357    مضاربت میں نقصان کا ذمہ دار کون ہوگا؟
مقام : وارث گوڑہ،حیدرآباد,
نام : محمد عبد المتین
سوال:     میں نے ایک صاحب کو تجارت کرنے کے لئے بیس لاکھ روپئے دئے اور ہم دونوں نے معاہدہ کیا کہ وہ صاحب اس سرمایہ سے تجارت کرینگے اور جو بھی فائدہ ہوگا اس میںساٹھ فیصد ان کا حق ہوگا اور چالیس فیصد وہ مجھے دینگے، الحمد للہ چار سال سے تجارت کا سلسلہ جاری ہے اور اس میں کافی فائدہ ہوا ہے، اب تک جو بھی فائدہ ہوتا رہا معاہدہ کے مطابق ہم نے اسے آپس میں تقسیم کرلیا، لیکن چھ مہینے سے کاروبار میں نقصان ہورہا ہے، بزنس شروع کرتے وقت ہم نے ایک عالم صاحب سے نفع اور نقصان کی تقسیم کے بارے میں دریافت کیا تھا، انہوں نے بتلایا تھا کہ فائدہ ہو تو دونوں اس کے حق دار ہونگے اور اگر نقصان ہوتا ہے تو رقم دینے والے صاحب کا نقصان ہوگا،کام کرنے والے کا نہیں۔
مفتی صاحب! میں اس سلسلہ میں مزید اطمینان حاصل کرنا چاہتاہوں کہ ایسے کاروبار میں نقصان ہو تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا اور نفع کی تقسیم کس طرح ہوگی؟شرعی رہنمائی فرمائیں،میں آپ کا ممنون رہونگا۔
............................................................................
جواب:     دو افراد اس طرح معاملہ کریں کہ ایک کا سرمایہ ہو اور دوسرے کی محنت ہو تو اسے اصطلاح شریعت میں ’’مضاربت‘‘ کہا جاتا ہے، عقد مضاربت میں نفع کا تناسب عاقدین کی صوابدید اور آپسی رضامندی سے کیا جاتا ہے۔ مضاربت کے تحت کئے جانے والے کاروبار میں اگر نقصان وخسارہ ہوجائے تو پہلے اس کی تلافی وپابجائی حاصل ہوچکے نفع سے کی جائے گی، اگر سرمایہ کار (Investor) اور مضارب  (محنت کرنے والے)(worker) نے آپس میں نفع کی رقم تقسیم کرلی ہو تو اس تقسیم کو کالعدم قرار دیا جائے گا، دونوں کے نفع کی رقم سے نقصان بھردیا جائے گا، اگر سرمایہ کار ومحنت کرنے والے میں سے کسی نے نفع کی رقم خرچ کردی ہو تب بھی اُسے اپنے حصہ کے برابر نفع کی رقم واپس کرنا ہوگا، نقصان کی بھر پائی نفع سے ہی ہوجائے تو ٹھیک ہے اور اگر نفع کی رقم ختم ہوجائے اور نقصان باقی رہ جائے تو اصل سرمایہ سے تلافی کی جائے گی، اصل سرمایہ سے بھر پائی کرنے کی صورت میں محنت کرنے والا نقصان میں شریک نہ ہوگا، سرمایہ کار مکمل طور پر نقصان برداشت کرے گا اور محنت کرنے والے کو اپنی محنت کا کوئی بدلہ نہیں ملے گا۔
جیساکہ فتاوی عالمگیری ، کتاب المضاربۃ‘ الباب السادس عشر فی قسمۃ الربح میں ہے: قال محمد رحمہ اللہ تعالی إذا عمل المضارب بمال المضاربۃ فربح ألفا فاقتسما الربح ومال المضاربۃ فی ید المضارب علی حالہ فأخذ رب المال من الربح خمسمائۃ والمضارب خمسمائۃ ثم ضاع ما أعد لرأس المال فی ید المضارب قبل العمل أو بعدہ فإن قسمتہما باطلۃ ، والخمسمائۃ التی أخذہا رب المال تحسب من رأس المال ویؤدی المضارب الخمسمائۃ التی أخذہا لنفسہ من الربح إلی رب المال إن کانت قائمۃ بعینہا ، وإن ہلکت فی یدہ رد مثلہا علی رب المال حتی یتم لرب المال رأس مالہ ، والألف الذی ہلک فی ید المضارب ہو الربح ، کذا فی المحیط.
واللہ اعلم بالصواب –
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com
حیدرآباد دکن۔
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com