***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاشرت > نکاح کا بیان

Share |
سرخی : f 1364    کورٹ میاریج کے بارے میں چند مسائل
مقام : یو اے ای,
نام : افراز احمد
سوال:    

جناب مفتی صاحب میرا سوال یہ ہے کہ (1) کیا کورٹ میاریج کرنا جائز ہے؟ (2) کورٹ میاریج میں لڑکی کا کوئی (ولی) نہیں تھا‘ اس کے والد بھی زندہ نہیں ہیں؟ (3) نکاح کا سب انتظام وکیل نے کیا‘ لڑکا لڑکی وکیل کے آفس میں گئے‘ کورٹ میں اور مولوی نے نکاح کروادیا۔ (4) نکاح نامہ پر جو گواہوں کے نام تھے وہ نکاح کے وقت موجود نہیں تھے اور ان کا وکیل نے انتظام کیا تھا‘ فی فرد 1000 روپئے دے کر‘ وکیل نے بعد میں ان کے نام فارم پر لکھے اور دستخط خدا جانے کس کے تھے اور نام کس کس کا۔ (5) نکاح کے وقت صرف وکیل اور اس کا منشی تھے۔ (6) وکیل نے ایک اسٹامپ پیپر پر لڑکی سے حلف نامہ لکھوایا کہ وہ اپنی مرضی سے نکاح کررہی ہے۔ (7) اور لڑکی نے نکاح سے پہلے اور بعد میں لڑکے کے ساتھ صحبت کی تھی۔ (8) لڑکا پاکستان سے باہر چلا گیا تھا‘ بعد میں لڑکا اور لڑکی میں کسی وجہ سے جھگڑا ہوگیا اور لڑکے نے تین سے زیادہ طلاق کہہ دئیے‘ (9) وجہ یہ تھی کہ لڑکے نے لڑکی کے بھائی سے اُس کی بہن کے رشتہ کے لئے کہا اور لڑکی کے گھر والوں نے اس سے اس لئے انکار کردیا کہ وہ لوگ الگ ذات سے ہیں۔ (10) اب وہ پھر شادی کرنا چاہتے ہیں اور اپنی فیملی کو رضامند کرلیا ہے‘ اب وہ کیا کریں کیوں کہ نکاح جو تھا وہ کسی کو پتا نہیں‘ صرف جو لڑکا ہے اس کی فیملی اور ماں باپ کو پتا ہے؟ لڑکی والوں کو کچھ نہیں پتا کیا ہوا ہے‘ اب ان کو کیا کرنے چاہئے کیوں کہ بہت سی احادیث پاک دیکھے ہیں‘ انٹرنیٹ سے سرچ کیا ہے کہ نکاح ولی کے بغیر نہیں ہوتا‘ کیا کرنا ہے کیا وہ نکاح باطل تھا‘ اب نیا نکاح کرسکتے ہیں یا نہیں‘ اور فتویٰ چاہئے اس مسئلہ پر کہ لڑکا نکاح کے وقت کوئی کام کاج نہیں کرتا تھا‘ پاکستان سے باہر جارہا تھا اس لئے نکاح کیا‘ لڑکی بی اے ہے اور لڑکا ایف اے پاس ہے‘ مہربانی فرماکر جلد از جلد جواب دیں۔ مزید یہ کہ نکاح کے بعد ان کا زبانی کلامی منہ سے نہیں ادا کیا گیا کہ لڑکی یا لڑکے سے کہ میں قبول کرتا!کرتی ہوں ‘ صرف مہر پوچھا گیا کتنا؟ لڑکی نے بتایا پھر لڑکے نے رضامندی ظاہر کی‘ مگر لڑکے نے صرف اس لئے رضامندی ظاہر کی کہ نکاح ہوجائے‘ دل میں مہر ادا کرنے کی نیت نہیں تھی‘ اب اس پر جواب دیجئے۔ جب اسلام نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہوا ہے اس کے بعد کوئی نبی نہیں تو مجھے اس پر پوچھنا ہے کہ پھر جب بہت سی احادیث پاک ملتی ہیں ولی پر کہ وہ نکاح نہیں ہے پھر کیوں ہم اس کو مانتے ہیں جب اگر اسلام میں یہ بات ہے کہ ولی کی اجازت لازمی ہے‘ تو اس اس کا مطلب ہم کو اس کو ماننا چاہئے نا کہ انگریزی قانون کو جو پاکستان میں چل رہا ہے‘ اس پر آپ مدد فرمائیں کہ جب کہ کوئی ایک حدیث سے یہ بات نہیں کہ ولی کے بغیر نکاح ہوجو بھی نکاح پر حدیث پاک ہیں بخاری شریف سے تو ولی کو لازمی قرار دیا ہے اور یہ کہ وہ نکاح باطل ہے‘ پھر ہم ان حدیث کی منفی کیوں کرتے ہیں جب کہ یہ بھی یہ ہے کہ زنا کے بعد نکاح باطل ہے کیونکہ زنا کے بعد توبہ یا جو سزا ہے وہ ہونے کے بعد نکاح کیا جائے‘ اب اسلام اتنا آسان مذہب ہے تو ہم اس کو کیوں مشکل میں لے جاتے ہیں‘ برائے مہربانی اس کا جواب عنایت فرمائیں ۔


............................................................................
جواب:    

(1) نکاح کے لئے لڑکا اور لڑکی کی رضامندی کے ساتھ ایجاب و قبول اور دو مسلمان عاقل و بالغ گواہوں کی موجود گی ضروری ہے۔ اگر کورٹ میاریج لڑکی اور لڑکے کی رضامندی کے ساتھ ہو، گواہوں کی موجود گی میں تو جائز اور درست ہے‘ اگر مہر مقرر نہ کیا جائے تو مہر مثل دینا ضروری ہے۔ (2) نکاح کے لئے لڑکی اور لڑکے کی رضامندی کافی ہے تاہم والدین کی یا سرپرستوں کی رضامندی خیر و برکت کا سبب ہوتی ہے۔ (3) ‘ (4) اور (5) نکاح کے گواہوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ ایجاب و قبول کے الفاظ سنیں‘ محض نامزدگی اور خانہ پُری سے گواہی کی شرط تکمیل نہیں پاتی‘ لہٰذا ایسی صورت میں نکاح منعقد نہیں ہوتا‘ مسلمانوں کے نکاح کے وقت وکیل اور قاضی صاحب کی قانونی اور شرعی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اسلامی قانون میں نکاح کے لازمی شرائط کو ملحوظ رکھیں۔ مذکورہ سوال صورت میں یہ شرائط پائے گئے ہوں تو نکاح درست ہے ورنہ نہیں۔ فتاوی عالمگیری میں ہے ومنہا ) الشہادۃ قال عامۃ العلماء : إنہا شرط جواز النکاح ہکذا فی البدائع وشرط فی الشاہد أربعۃ أمور : الحریۃ والعقل والبلوغ والإسلام ...... ( ومنہا ) سماع الشاہدین کلامہما معا ہکذا فی فتح القدیر ...... الشاہدین کلامہما معا ہکذا فی فتح القدیر ...... ولو سمعا کلام أحدہما دون الآخر أو سمع أحدہما کلام أحدہما والآخر کلام الآخر لا یجوز النکاح ہکذا فی البدائع ...... ولو قالت إن فلانا کتب إلی یخطبنی فاشہدوا أنی قد زوجت نفسی منہ صح النکاح لأن الشہود سمعوا کلامہما بإیجاب العقد وسمعوا کلام الخاطب بإسماعہا إیاہم ہکذا فی الذخیرۃ ولو کتب الإیجاب والقبول لا ینعقد کذا فی فتح القدیر. (فتاوی عالمگیری، کتاب النکاح، الباب الأول فی تفسیرہ شرعا وصفتہ ورکنہ وشرطہ وحکمہ) (6) لڑکی اگر نکاح پر راضی ہو اور اپنی رضامندی سے یہ اقدام کررہی ہو تو درست ہے‘ لیکن اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ والدین کی رضامندی کے بغیر شادی ہو تو رشتۂ نکاح میں پائیداری نہیں رہتی اور والدین اپنی اولاد کے بارے میں اپنی پدرانہ شفقت و مادری محبت کے سبب وہی فیصلہ کرتے ہیں جو اولاد کے لئے بہتر ہو۔ نکاح صرف ضابطہ کی تکمیل کے لئے نہیں بلکہ زندگی کا ایک اہم فیصلہ ہوتا ہے‘ لہٰذا والدین کے مشورہ و رضامندی کے ساتھ نکاح کرنا خوش آئند اور بہتر ہے۔ (7) نکاح سے پہلے لڑکی‘ لڑکے کے لئے اجنبی رہتی ہے‘ لڑکے کے لئے لڑکی کو دیکھنا‘ چھونا‘ گناہ اور معصیت ہے۔ اس گناہ سے لڑکا ‘ لڑکی کو توبہ کرنی چاہئے۔ اگر نکاح اپنی تمام شرائط کے ساتھ تکمیل پائے اور لڑکی لڑکے کے نکاح میں آجائے تب بھی لڑکی کے لئے اجنبی افراد کے ساتھ پردہ کا حکم ہے۔ زوجین کے درمیانی تعلقات کسی اور کے سامنے یا سر عام ظاہر ہونا اخلاقی گراوٹ کی حیاء سوز مثال ہے۔ اسلام نے شوہر کو ہدایت دی کہ بیوی کے لئے علیحدہ کمرہ فراہم کرے‘ کسی اور کے سامنے زوجین کا یہ عمل تقاضۂ حیاء کے خلاف اور پردہ کے شرعی احکام کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ (8) جب شوہر نے تین طلاق دے دی ہے تو لڑکی اس کے نکاح سے نکل چکی‘ شوہر کو رجوع کرنے کا کوئی اختیار نہیں‘ سوائے اس کے کہ لڑکی عدت گزارنے کے بعد دوسرے لڑکے سے نکاح کرے اور اس اس کے ساتھ ازدواجی تعلق رکھے‘ اگر کسی وجہ سے دوسرے شوہر نے اُسے طلاق دی تو عدت گزارنے کے بعد پہلے شوہر سے نکاح کرسکتی ہے۔ (9) اور (10) نکاح میں کفاء ت کو ملحوظ رکھنا چاہئے‘ اگر بالغ لڑکی ولی کی اجازت کے بغیر غیر کفو سے نکاح کرلے تو ولی کو نکاح فسخ کروانے کا اختیار ہے۔ اگر بالغ لڑکی نے کفو سے نکاح کیا تو ولی کو نکاح فسخ کروانے کا اختیار حاصل نہ رہے گا۔ کفاء ت میں نسب‘ اسلام ‘پیشہ‘ شہر‘ دیانت اور مال کا اعتبار کیا جاتا ہے۔ بالغ لڑکی نے کفاء ت کا پاس و لحاظ رکھتے ہوئے نکاح کیا تو نکاح صحیح ہوتا ہے جیسا کہ صحیح مسلم شریف‘ سنن ابو داؤد‘ سنن نسائی‘ سنن ترمذی‘ مؤطا امام مالک اور دیگر حدیث میں حدیث پاک ہے عن ابن عباس أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال الثیب أحق بنفسہا من ولیہا والبکر تستأمر وإذنہا سکوتہا۔ ترجمہ: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: شوہر دیدہ لڑکی ولی سے زیادہ اپنی ذات کی حقدار ہے‘ اور دوشیزہ سے اجازت طلب کی جائے اور اس کی اجازت اس کی خاموشی ہے۔ (صحیح مسلم، کتاب النکاح، باب استئذان الثیب فی النکاح بالنطق والبکر بالسکوت حدیث نمبر3542- سنن ابوداود، کتاب النکاح، باب فی الثیب حدیث نمبر 2100- سنن نسائی، کتاب النکاح، استئذان البکر فی نفسہا حدیث نمبر 321- سنن ترمذی، ابواب النکاح، باب ما جاء فی استئمار البکر والثیب، حدیث نمبر 1132- موطا مالک، کتاب النکاح، باب استئذان البکر والأیم فی أنفسہما، حدیث نمبر 1097) اس حدیث پاک سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ بالغ لڑکی سے اجازت حاصل کرنا ضروری ہے اور اس کی رضامندی نکاح کے لئے کافی ہے۔ اب رہا وہ حدیث شریف جس سے ولی کی اجازت ضروری معلوم ہوتا ہے یہ حدیث پاک اس صورت کے ساتھ خاص ہے کہ لڑکی نے غیر کفو سے نکاح کرلیا‘ ایسی صورت میں ولی کوفسخ نکاح کا اختیار رہے گا۔ ان دس سوالات کے جوابات متعلق سوالات کے الفاظ کے پیش نظر دئیے گئے۔ نمبر (10) کے تحت جو وضاحت کی گئی ہے اس سے واضح ہوتا ہے کہ جس نکاح کا آپ نے ذکر کیا ہے وہ سرے سے منعقد ہی نہیں ہواکیونکہ نکاح کے لئے یہ شرط ہے کہ عاقدین زبان سے ایجاب و قبول کے الفاظ ادا کریں اور گواہان اسے سنیں۔ جب نکاح کے لئے ایجاب و قبول کے الفاظ ادا کئے بغیر محض کاغذات تیار کئے جائیں او رگواہوں کے سامنے لڑکا لڑکی کے دستخط لئے جائیں تو ایسی صورت میں شرعاً نکاح منعقد نہیں ہوا۔ والمراد بالباطل حقیقتہ علی قول من لم یصحح ما باشرتہ من غیر کفء ، أو حکمہ علی قول من یصححہ أی للولی أن یبطلہ (رد المحتار، کتاب النکاح، باب الولی) ولا ینعقد بالکتابۃ من الحاضرین فلو کتب تزوجتک فکتبت قبلت ؛ لم ینعقد ہکذا فی النہر الفائق . (فتاوی ہندیۃ، کتاب النکاح، الباب الثانی فیما ینعقد بہ النکاح وما لا ینعقد بہ)۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com