***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > نماز کا بیان > زیارت قبور و ایصال ثواب

Share |
سرخی : f 1370    کیا فاتحہ کھانے یا پینے کی چیز سامنے رکھ کر دی جاسکتی ہے؟
مقام : آسٹر یلیا,
نام : ندیم
سوال:    

السلام علیکم مفتی صاحب! میراایک سوال ہے کہ کیا فاتحہ کھانے یا پینے کی چیز سامنے رکھ کر دی جاسکتی ہے؟


............................................................................
جواب:    

فاتحہ چند جائز اور اچھے امور کے مجموعہ کا نام ہے‘ اس میں اطعام طعام‘ تلاوت قرآن‘ ایصال ثواب کیا جاتا ہے‘ یہ سب کام انجام دینے کی احادیث شریفہ میں فضیلت آئی ہے‘ اسی لئے فاتحہ دینا مستحب و مستحسن ہے۔ غزوۂ خندق کے موقع پر حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے گھر میں حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت دعا فرمائی جبکہ کھانا سامنے موجود تھا۔ صحیح بخاری شریف میں تفصیلی روایت ہے‘ روایت کا ایک حصہ ملاحظہ ہو: فاخرجت لہ عجینا فبصق فیہ و بارک ثم عمد الی برمتنا فبصق و بارک
۔ ترجمہ: حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی اہلیہ نے گوندھا ہوا آٹا پیش کیا تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں لعاب دہن مبارک ڈالا اور برکت کی دعا فرمائی پھر ہماری ہانڈی کی طرف متوجہ ہوئے‘ لعاب دہن مبارک ڈالا اور برکت کی دعا فرمائی۔ (صحیح بخاری شریف‘ ج 2‘ کتاب المغازی‘ باب غزوۃ الخندق‘ حدیث نمبر: 3793) سنن نسائی ، جامع ترمذی،سنن ابوداؤد، مسندامام احمد، شعب الإيمان للبيهقي ،مسند عبد بن حميد، الجامع الكبير للسيوطي اور معرفة الصحابة لأبي نعيم الأصبهاني، وغیرہ میں حدیث مبارک ہے : عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ ۔۔۔۔ فَقَالَ : قُلْ " فَقُلْتُ : مَا أَقُولُ ؟ قَالَ:قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ وَالْمُعَوِّذَتَيْنِ حِينَ تُمْسِى وَحِينَ تُصْبِحُ ثَلاَثًا يَكْفِيكَ كُلَّ شَىْءٍ.
ترجمہ:سیدنا معاذ بن عبد اللہ رضی اللہ تعالی عنہ اپنے والد سے روایت بیان کرتے ہیں،انہوں نے فرمایا کہ۔۔۔حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا قل ھو اللہ احد اور معوذتین (سورۃ الفلق اور سورۃ الناس)کو صبح و شام تین تین دفعہ پڑھا کرو تو اس سے ہر چیز سے تمہارا بچاؤ ہوگا۔ (سنن نسائی ،کتاب الاستعاذة، حدیث نمبر: 5445- جامع ترمذی شریف،ابواب الدعوات، حدیث نمبر: 3924- سنن ابوداؤد،کتاب الأدب، باب ما يقول إذا أصبح. حدیث نمبر: 5084- مسندامام احمد، حديث عبد الله بن خبيب، حدیث نمبر: 23332- شعب الإيمان للبيهقي ، حدیث نمبر: 2467- مسند عبد بن حميد، حدیث نمبر: 496- الجامع الكبير للسيوطي،حرف القاف، حدیث نمبر: 375- معرفة الصحابة لأبي نعيم الأصبهاني، باب من اسمه خارجة، حدیث نمبر:2267- ) فاتحہ میں جو سورتیں تلاوت کی جاتی ہیں ان کو صبح و شام پڑھا کرنے کی حدیث مذکور میں ہدایت فرمائی گئی ہے۔ نیزصحیح بخاری ،جامع ترمذی شریف،سنن ابوداؤد، مسند امام احمد، صحيح ابن حبان، شعب الإيمان للبيهقي اور كنز العمال وغیرہ ميں حدیث مبارک ہے: عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِىَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا اوَى إِلَى فِرَاشِهِ كُلَّ لَيْلَةٍ جَمَعَ كَفَّيْهِ ثُمَّ نَفَثَ فِيهِمَا فَقَرَأَ فِيهِمَا " قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ " وَ " قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ " وَ " قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ " ثُمَّ يَمْسَحُ بِهِمَا مَا اسْتَطَاعَ مِنْ جَسَدِهِ يَبْدَأُ بِهِمَا عَلَى رَأْسِهِ وَوَجْهِهِ وَمَا أَقْبَلَ مِنْ جَسَدِهِ يَفْعَلُ ذَلِكَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ .
ترجمہ:ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہاسے روایت ہے کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم جب بستر مبارک پر رونق افروز ہوتے تو ہر رات اپنے دستہائے مبارک کو ملاتے پھر ان پر دم فرماتے (اس پر دم فرمانے میں) قل ھو اللہ احد‘ قل اعوذ برب الفلق‘ قل اعوذ برب الناس پڑھا کرتے پھر ان کو اپنے جسد اطہر پر جہاں تک ہوسکتا اپنے دستہائے مبارک پھیرتے ‘اس طور پر کہ سر اقدس اور چہرہ مبارک سے آغاز فرماتے او رسامنے پورے جسد شریف کا استیعاب فرماتے‘ یہ عمل تین دفعہ فرماتے۔ (صحیح بخاری ، باب فَضْلِ الْمُعَوِّذَاتِ . حدیث نمبر: 5017- جامع ترمذی شریف،ابواب الدعوات، باب ما جاء فيمن يقرأ القرآن عند المنام. حدیث نمبر: 3730- سنن ابوداؤد،کتاب الأدب، باب ما يقال عند النوم. حدیث نمبر: 5058- مسند امام احمد، حدیث نمبر: 25595 – شعب الإيمان للبيهقي ، حدیث نمبر: 2570- صحيح ابن حبان، كتاب الزينة والتطيب، باب آداب النوم، حدیث نمبر: 5544- كنز العمال، حدیث نمبر: 41998-) اللہ تعالی نے اہل ایمان کو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں دورد و سلام پڑھنے کا حکم فرمایا ، قرآن شریف میں ارشاد باری تعالی ہے : إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيْما –
ترجمہ : بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی آپ کی خدمت بابرکت میں درود پڑھا کرو ، اور کثرت سے سلام عرض کیا کرو - (سورة الأحزاب -56) حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں سلام پیش کرنے والوں کے لئے احادیث شریفہ میں مژدے اور بشارتیں دی گئی ہیں : حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : لقيت جبريل فقال لى إنى أبشرك أن الله تعالى يقول من سلم عليك سلمت عليه . ومن صلى عليك صليت عليه-
جبرئیل علیہ السلام مجھ سے مل کر عرض کئے : میں آپ کو بشارت دیتا ہوں کہ اللہ تعالی فرماتا ہے : جو شخص آپ کی خدمت میں سلام پیش کرے میں اس پر سلام بھیجونگا ، اور جو شخص آپ کی خدمت میں درود پیش کرے میں اس پر رحمت نازل کرونگا- (مستدرک علی الصحیحین، كتاب الصلاة ،حديث نمبر:770- مسند امام احمد،مسند سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل رضي الله عنه ، حديث نمبر:1574- الشفابتعريف حقوق المصطفى،الباب الرابع في حكم الصلاة عليه والتسليم وفرض ذلك وفضيلته ، ج 2 ، ص 75 ) مستدرک علی الصحیحین میں ہے : عن عبد الله بن أبي طلحة الأنصاري ، عن أبيه ، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم جاء ذات يوم والبشرى ترى في وجهه فقلنا : يا رسول الله ، إنا لنرى البشرى في وجهك ، فقال : « إنه أتاني الملك فقال : يا محمد ، إن ربك يقول : أما ترضى ما أحد من أمتك صلى عليك إلا صليت عليه عشر صلوات ، ولا سلم عليك أحد من أمتك إلا رددت عليه عشر مرات ؟ فقال : بلى -
ترجمہ :حضرت عبد اللہ ابن ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن جلوگر ہوئے اور آپ کے چھرۂ انور پر مسرت کے آثار نمودار تھے ، ہم نے عرض کیا : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !ہم آپ کے چھرۂ انور پر مسرت کے آثار دیکھ رھے ہیں ؟ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وجہ یہ ہےکہ ایک فرشتہ میری خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا : اے پیکر حمد وثناء صلی اللہ علیہ وسلم ! بیشک آپ کا پروردگار فرماتاہے : کیا آپ اس بات سے خوش نہیں ہیں کہ جب کبھی آپ کا کوئی امتی آپ کی خدمت میں درود پیش کرے تو میں دس مرتبہ اس پر رحمت نازل کرؤنگا، اور جو آپ کی خدمت میں سلام پیش کرے میں اس پر دس مرتبہ سلام بھیجونگا ، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :ہاں میں راضی وخوش ہوں- (مستدرک علی الصحیحین ، کتاب التفسیر،حدیث نمبر: 3534 - مصنف ابن ابی شیبۃ ، ج2 ص398 - سنن کبری للنسائی، حدیث نمبر:9888) امام طبرانی کی معجم کبیر میں ان الفاظ کا اضافہ ہے : أَنَّهُ مَنْ صَلَّى عَلَيْكَ صَلَّيْتُ عَلَيْهِ أَنَا ومَلائِكَتِي عَشْرًا ، وَمَنْ سَلَّمَ عَلَيْكَ سَلَّمْتُ عَلَيْهِ أَنَا ومَلائِكَتِي عَشْرًا .
ترجمہ: آپ کا کوئی امتی آپ کی خدمت میں درود پیش کرے تو میں دس مرتبہ اس پر رحمت نازل کرؤنگا اور میرے فرشتے دس مرتبہ اس کے لئے دعائے مغفرت کرینگے ، اور جو آپ کی خدمت میں سلام پیش کرے تو میں اور میرے فرشتے اس پر دس مرتبہ سلام بھیجنگے- حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : وعن ابن مسعود: إن لله ملائكة سياحين في الأرض يُبَلغوني عن أمتى السلام –
بے شک اللہ تعالی کے کچہ فرشتے زمین میں سیر کرنے والے ہیں جو میری امت کی طرف سے میرے پاس سلام پہنچاتے ہیں - (مسند امام احمد ، مسند عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ، حدیث نمبر: 3484- سنن نسائی ، حدیث نمبر:1265- مستدرک علی الصحیحین،كتاب التفسير، تفسير سورة الأحزاب ، حدیث نمبر:3535- کتاب الشفاء ج 2 ، ص79) اور ایک روایت میں ہے : وروى ابن وهب أن النبي صلى الله عليه وسلم قال من سلم على عشرا فكأنما أعتق رقبة-
حضرت ابن وھب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو میری خدمت میں دس مرتبہ سلام پیش کرے گویا اس نے ایک غلام آزاد کیا - (کتاب الشفاء ج 2 ، ص77) حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں درود پڑھنا ، آگ کے لئے ٹھنڈا پانی سے زیادہ گناہوں کو میٹنے والا ہے ، اور آپ کی خدمت اقدس میں سلام عرض کرنا غلام آزاد کرنے سے زیادہ افضل ہے – (کتاب الشفاء ج 2 ، ص77) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : أكثروا من السلام على نبيكم كل جمعة فإنه يؤتى به منكم في كل جمعة.
ترجمہ : تمہارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ہر جمعہ کثرت سے سلام پیش کیا کرو، کیونکہ ہر جمعہ وہ تمہاری طرف سے خدمت اقدس میں پیش ہوتا ہے - (کتاب الشفاء ج 2 ، ص79) صحیح بخاری شریف کی حدیث پاک سے ثابت ہوا کہ کھانے سامنے ہوتے ہوئے دعا کرنا جائز ہے‘ اس کے بر خلاف کسی روایت میں کھانا سامنے رکھ کر دعا کرنے کی ممانعت وارد نہیں ہے۔ احادیث شریفہ میں صبح وشام سورۂ فاتحہ‘ سورۂ اخلاص‘ قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس پڑھنے کا بھی ذکر ہے‘ فاتحہ میں یہی ہوتا ہے کہ مذکورہ سورتیں پڑھی جاتی ہیں اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت بابرکت میں درود شریف کا نذرانہ پیش کیا جاتا ہے،اور ایصال ثواب کیا جاتا ہے ،یہ تمام امور شریعت اسلامیہ میں جائز وپسندیدہ ہیں- واللہ اعلم بالصواب سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com