***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > نماز کا بیان > اذان کے مسائل

Share |
سرخی : f 1379    کیا بغیر وضو کے اذان کہی جاسکتی ہے ؟
مقام : سنگاریڈی ، انڈیا,
نام : محمد عبد العظیم
سوال:    

مفتی صاحب ! مسئلہ یہ ہے کہ کیا اذان کے لئے وضوکرنا ضروری ہے یا بغیر وضو کے بھی اذان دی جاسکتی ہے ؟ دونوں میں بہتر کیا ہے ؟ یہ ضرور ارشاد فرمائیںکہ اگر بنا وضو اذان دی جائے تو کیا اس کو دہرانا ضروری ہے ؟


............................................................................
جواب:    

اذان کے لئے وضو کرنا مستحب ہے کیونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اذان دینے والے کے لئے باوضو رہنے کی ہدایت فرمائی ہے جیساکہ جامع ترمذی میں حدیث مبارک ہے : عن أبی ہریرۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال لا یؤذن الا متوضیئ. ترجمہ :حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: باوضو شخص ہی اذان کہے ۔ (جامع ترمذی ، ابواب الصلوٰۃ ، باب ماجاء فی کراھیۃ الاذان بغیر وضوء ، حدیث نمبر:200) اگر کوئی شخص بغیر وضو اذان کہہ دے تو جائز ہوجاتی ہے ، اُسے دہرانے کی ضرورت نہیں۔ جیساکہ درسِ نظامی کی مشہور کتاب ہدایہ میں ہے : وینبغی أن یؤذن ویقیم علی طہر فإن أذن علی غیر وضوء جاز۔(الہدایۃ، باب الاذان ) تاہم بہتر یہ ہے کہ بحالتِ وضو اذان کہی جائے کیونکہ اذان کا مقصد لوگوں کو نماز کے لئے بلانا ہے ، لہذا مؤذن کو چاہئے کہ جس کارِ خیر کے لئے دعوت دے رہاہے خود بھی اس کے لئے عملی طور پر تیار رہے۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com