***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > طہارت کا بیان > وضو کے مسائل

Share |
سرخی : f 1386    کیا لینسیز کے ہوتے ہوئے وضوہوجائے گا؟
مقام : دمام,
نام : کلیم نواز
سوال:     بعض لوگ چشمہ کے بجائے لینسیز استعمال کرتے ہیں، وضواور غسل کے دوران اس کونہیں نکالتے لینسیزآنکھوں میں ہوتے ہوئے وضو یا غسل کریں تو وضواورغسل ہوجائیگا یا اس کو نکالنا ضروری ہے؟
............................................................................
جواب:     آنکھ کا اندرونی حصہ ازروئے شرع چونکہ داخل بدن قرادیا گیا ہے اور اس کو دھونے میں غیرمعمولی زحمت و دقت پیش آتی ہے اس لئے وضو وغسل میں اس کا دھونا واجب نہیں ہے ، طہارت کے احکام کے ضمن میں ارشاد خداوندی ہے : مَایُرِیْدُاللّٰہُ لِیَجْعَلَ عَلَیْکُمْ مِنْ حَرَجٍ وَّلٰکِنْ یُّرِیْدُ لَیُطَھِّرَکُمْ- ترجمہ: اللہ تعالی تم پر مشقت ڈالنا نہیں چاہتا بلکہ وہ تمہیں خوب پاک وصاف کرناچاہتاہے- (سورۃالمائدہ:6)
لینسیز دراصل مجوف عدسات ہیں، چوں کہ وہ آنکھ کے اندرونی حصہ سے متصل ہیں اور وضووغسل میں آنکھ کے اندرونی حصہ تک پانی پہنچانا واجب نہیں ، لہذا لینسیزکے ساتھ وضووغسل کرنے میں شرعاً کوئی مضائقہ نہیں ہے ۔فتاوی عالمگیری ج 1،کتاب الطھارۃ، الباب الاول فی الوضوء ص 4، میں ہے:وایصال الماء الی داخل العینین لیس بواجب ولاسنۃ۔
فتاوی عالمگیری ،کتاب الطھارۃ الباب الثانی فی الغسل، ج1،ص 13میں ہے: ولایجب ایصال الماء الی داخل العینین کذا فی محیط السرخسی۔
واللہ اعلم بالصواب –
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com
حیدرآباد دکن
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com